ایران میں ہلاکتوں پر عالمی دباؤ، اقوامِ متحدہ کا آزاد تحقیقات کا مطالبہ
👁️ 207 بار دیکھا گیا
ایران میں ہلاکتوں پر عالمی دباؤ، اقوامِ متحدہ کا آزاد تحقیقات کا مطالبہ
نیو یارک (ڈیلی اردو/ے پی/اے ایف پی/روئٹرز) اقوامِ متحدہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کو دی جانے والی مجوزہ موت کی سزاؤں کو فوری طور پر روک دے اور بدامنی کے دوران ہونے والی تمام ہلاکتوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرے۔
اقوامِ متحدہ کے شعبۂ سیاسی و امن سازی امور کی اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل مارتھا پوبی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا، “ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ احتجاج سے متعلق مقدمات میں دی جانے والی کسی بھی سزائے موت کو روکا جائے۔
تمام ہلاکتوں کی فوری، آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
کسی بھی خلاف ورزی کے ذمہ داروں کو بین الاقوامی اصولوں اور معیار کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے تمام فریقین سے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایران کا امریکہ پر بدامنی بھڑکانے کا الزام
ایران میں ہونے والے خونریز مظاہروں پر بات چیت کے لیے جمعرات کے روز ہی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک میں فوجی مداخلت کی دھمکیوں کے پس منظر میں ہوا۔
اقوامِ متحدہ کے بااثر 15 رکنی ادارے کے اراکین نے ایران کے نائب مستقل مندوب غلام حسین درزی کا مؤقف سنا، جنہوں نے جمعرات کے اجلاس میں خبردار کیا کہ ایرانی عوام کسی تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن امریکہ کی جارحیت کا جواب ضرور دیں گے، اور واشنگٹن پر ''ایران میں بدامنی کو ہوا دینے میں براہِ راست ملوث ہونے‘‘ کا الزام عائد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اپنی کارروائیوں کے ذریعے ''سیاسی عدم استحکام اور فوجی مداخلت کی راہ ہموار کر رہا ہے۔‘‘
ایرانی سفارتکار نے زور دیا کہ تہران کشیدگی یا تصادم نہیں چاہتا، لیکن اگر ''کسی بھی قسم کی، براہِ راست یا بالواسطہ، جارحیت کی گئی تو فیصلہ کن، متناسب اور قانونی جواب دیا جائے گا۔‘‘
دوسری جانب، اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے اجلاس میں کہا کہ واشنگٹن ''ایران کے بہادر عوام‘‘ کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ''تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔‘‘
والٹز نے کہا، “صدر ٹرمپ عملی آدمی ہیں، اقوامِ متحدہ میں نظر آنے والی لاحاصل باتوں کے نہیں۔ قتلِ عام روکنے کے لیے تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔”
فی الوقت حملے کا امکان کم ہے
صدر ٹرمپ متعدد بار ایران میں مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف شدید کریک ڈاؤن میں سینکڑوں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم جمعرات کو امریکی صدر نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران مظاہرین کو قتل کرنا اور پھانسیاں دینا بند کر دے گا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایرانی مظاہرین کی 800 پھانسیاں، جو کل دی جانی تھیں"روک دی گئی ہیں۔"
ایران کی وزارتِ انصاف نے بدھ کی صبح اعلان کیا تھا کہ مظاہرین کے مقدمات اور سزاؤں میں تیزی لائی جائے گی، تاہم بعد میں اسی روز وزارت اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں ''دوسری جانب سے نہایت اہم ذرائع‘‘ سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایران میں پھانسیاں نہیں دی جائیں گی، اور انہوں نے فی الحال ایرانی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کے روز امریکی حکام کے حوالے سے اطلاع دی کہ ٹرمپ کو بتایا گیا ہے کہ ایران پر فوجی حملہ ممکنہ طور پر حکومت کے خاتمے کا باعث نہیں بنے گا بلکہ ایک اور ''وسیع تر تنازعے‘‘ کو جنم دے سکتا ہے۔
پریس سیکریٹری لیوٹ نے کہا کہ امریکہ ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، اور تازہ رپورٹس کے مطابق مظاہروں کی شدت میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا، “صدر اور ان کی ٹیم نے ایرانی حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر قتل و غارت جاری رہی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔”
اوسلو میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس کے مطابق اب تک 3,400 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کا سب سے خونریز کریک ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کی ثالثی کی پیشکش
اس دوران سوئٹزرلینڈ نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
سوئس محکمہ خارجہ کے مطابق، ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری سے بات کی اور موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے ایک مقام فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
سوئٹزرلینڈ ایران میں امریکہ کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے ابتدائی دنوں کے دوران تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد سے واشنگٹن کی تہران میں کوئی سفارتی نمائندگی موجود نہیں ہے۔
اس سلسلے میں دیگر امور کے علاوہ، سوئٹزرلینڈ تہران میں ایک 'فارِن انٹرسٹس سیکشن‘ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے، جو امریکی شہریوں کو قونصلر تحفظ فراہم کرتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ
19/July/2026 👁️ 241 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک
19/July/2026 👁️ 177 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز جاری، مزید 3 دہشت گرد ہلاک، سرچ آپریشن میں 28 مشتبہ افراد گرفتار
19/July/2026 👁️ 146 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں خودکش حملے کا بڑا منصوبہ ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک
19/July/2026 👁️ 159 بار دیکھا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر ہلاک
19/July/2026 👁️ 153 بار دیکھا گیا
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے پاکستان کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ
18/July/2026 👁️ 296 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8958 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4804 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3567 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3167 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2562 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2316 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C