02/June/2026

ایران نے امریکہ سے رابطے منقطع کر دیے، کشیدگی نئے مرحلے میں داخل

👁️ 478 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران نے امریکہ سے رابطے منقطع کر دیے، کشیدگی نئے مرحلے میں داخل

ایران نے امریکہ سے رابطے منقطع کر دیے، کشیدگی نئے مرحلے میں داخل

تہران (ڈیلی اردو/ے پی/اے ایف پی/روئٹرز) تہران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کا عمل معطل کر دیا ہے۔

 

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے پیر کے روز ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام رابطے اور پیغامات کے تبادلے معطل کر دیے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

 

تسنیم کے مطابق ایران اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل ’مزاحمتی محاذ‘، جس میں حزب اللہ، یمن کے حوثی باغی اور عراق کے شیعہ اتحادی شامل ہیں، نے ایک ایسا لائحہ عمل طے کیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

 

یہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنان میں کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے، جبکہ ایران مسلسل یہ موقف اختیار کر رہا ہے کہ لبنان میں مؤثر جنگ بندی کسی بھی وسیع تر امن معاہدے کی لازمی شرط ہے۔

 

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز بیروت کے ان جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملوں کا حکم دے دیا، جو حزب اللہ کے زیر اثر سمجھے جاتے ہیں۔

 

اس اقدام سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو مزید دھچکا پہنچ سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک پہلے ہی جنگ بندی میں توسیع اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق نئی ایرانی حکمت عملی میں آبنائے باب المندب کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو ’سزا‘ دی جا سکے۔

 

اگر یمن میں ایران کے اتحادی حوثی باغی اس تنازعے میں نیا محاذ کھولتے ہیں، تو باب المندب ان کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ بحیرہ احمر اور نہر سوئز کی جانب جانے والی عالمی بحری تجارت کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ 

 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا، ’’ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔‘‘

 

انہوں نے یہ بیان لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں دیا۔

 

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کا موقف ہے کہ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا فوری خاتمہ اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلا کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے بنیادی شرط ہے۔

 

ایجنسی نے مزید لکھا، ’’جب تک ایران اور مزاحمتی محاذ کے ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘‘

 

اگر آبنائے ہرمز یا باب المندب میں بحری آمد و رفت مزید متاثر ہوتی ہے، تو اس کے عالمی سطح پر تیل، مائع قدرتی گیس اور تجارتی سامان کی ترسیل پر سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C