08/October/2026

ایران کے خلاف ممکنہ دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاریاں، پینٹاگون نے سینٹکام کو ہدایات جاری کردیں

👁️ 81 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے خلاف ممکنہ دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاریاں، پینٹاگون نے سینٹکام کو ہدایات جاری کردیں

ایران کے خلاف ممکنہ دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاریاں، پینٹاگون نے سینٹکام کو ہدایات جاری کردیں

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر امریکی سینٹرل کمانڈ کو ضروری فوجی تیاری مکمل کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال دوبارہ جنگ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے متعدد امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے یہ ہدایات چند روز قبل جاری کی گئیں، جن کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی آپریشن کے لیے امریکی افواج کو تیار رکھنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہدایات میں کسی کارروائی کی تاریخ یا حملے کے آغاز کا مخصوص وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر واشنگٹن دوبارہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ہوسکتی ہے، جبکہ اسرائیل میں ہونے والے انتخابات بھی ممکنہ کارروائی کے وقت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ فوجی کارروائی کا دائرہ صرف ایرانی جوہری تنصیبات تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ توانائی کے مراکز، بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے جانے کے امکانات زیر غور ہیں۔

پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے کہا کہ محکمہ دفاع کا بنیادی کام صدر کے سامنے فوجی آپشنز تیار کرکے پیش کرنا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکی صدر کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔

یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا سابقہ کنٹرول کھو چکا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اس مؤقف کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

ایران کے خلاف کسی نئی امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی یمن، آبنائے ہرمز اور ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے متعدد محاذوں پر صورتحال انتہائی حساس ہے۔

تاہم ایکسیوس کی رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی شروع کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، اس لیے ممکنہ حملے کے وقت یا نوعیت سے متعلق اطلاعات کو فی الحال امریکی فوجی تیاریوں اور زیرغور آپشنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C