12/February/2026

ایرانی صدر نے احتجاجی کریک ڈاؤن پر معافی مانگ لی

👁️ 172 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایرانی صدر نے احتجاجی کریک ڈاؤن پر معافی مانگ لی

ایرانی صدر نے احتجاجی کریک ڈاؤن پر معافی مانگ لی

تہران/واشنگٹن (ڈیلی اردو، نیوز ایجنسیاں) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلامی انقلاب کی سالانہ یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج اور اس کے بعد ہونے والے کریک ڈاؤن سے متاثرہ تمام افراد سے معافی مانگی۔ 

 

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم عوام کے سامنے شرمندہ ہیں‘‘ اور حکومت کو عوامی مطالبات سنجیدگی سے سننے چاہییں۔ 

 

صدر نے کہا کہ حکومت ان تمام افراد کی مدد کی پابند ہے جو ان واقعات سے متاثر ہوئے اور ان کا واضح موقف تھا کہ ایرانی حکومت عوام کے ساتھ تصادم نہیں چاہتی۔

 

واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ برس 28 دسمبر کو معاشی بدحالی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، جو دو ہفتوں سے زائد عرصے تک جاری رہے اور ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گئے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 6 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ آزاد ذرائع اور انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق یہ تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس طرح سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹوں میں واضح اور نمایاں فرق موجود ہے۔ 

 

انسانی حقوق کے بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

 

موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے، جن میں مشین گنز، کلاشنکوف، سنائپر رائفلیں، خودکار اسلحہ، شاٹ گنز، پستول، چھرے والی بندوقیں، آنسو گیس اور لاٹھیاں شامل تھیں۔ 

 

بعض رپورٹس میں ٹوکے، خنجر، چاقو، ڈنڈے اور نشانہ لگانے یا عارضی طور پر بینائی متاثر کرنے کے لیے سبز رنگ کی لیزر کا استعمال بھی بتایا گیا ہے۔

 

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گزشتہ ہفتے ایک خطاب میں مظاہروں کے دوران بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بعض واقعات ’’انسانیت سوز اور ظالمانہ انداز‘‘ میں پیش آئے۔ یاد رہے کہ مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم بھی انہی کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔

 

اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر سرکاری ٹیلی ویژن نے ملک بھر سے دسیوں ہزار شہریوں کی ریلیوں کی فوٹیج نشر کی، جن میں حکومت اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔ شرکاء نے ایرانی اور فلسطینی پرچم اٹھائے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ 

 

بعض علاقوں میں ’’آمریت مردہ باد‘‘ کے نعرے بھی سنائی دیے، جو گزشتہ احتجاجات کے اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 

صدر پزشکیان نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ ایران ’’جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کر رہا‘‘ اور ہر قسم کی تصدیق کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں۔ 

 

گزشتہ جمعے عمان کے دارالحکومت مسقط میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ کوئی نیا معاہدہ طے پا سکے گا یا نہیں۔

 

صدر پزشکیان نے کہا کہ ’’یورپ اور امریکہ نے جو بداعتمادی کی دیوار کھڑی کر دی ہے، اس کے بعد مذاکرات کے مؤثر ہونے کا امکان کم ہے۔ ایران زیادہ مطالبات کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔‘‘ 

 

انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں امن کے لیے پڑوسی ممالک سے رابطے میں ہے اور ترکی، آذربائیجان، قطر، متحدہ عرب امارات، پاکستان، سعودی عرب اور مصر کا شکریہ ادا کیا۔

 

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید عسکری قوت بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔ 

 

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ خطے میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکہ پہلے ہی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن اور دیگر جنگی اثاثے خطے میں تعینات کر چکا ہے۔

 

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)، مہینوں سے ایران کی بعض جوہری تنصیبات اور ذخائر کا باقاعدہ معائنہ کرنے سے قاصر ہے، جس سے عالمی سطح پر خدشات پیدا ہیں۔

 

ایران ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں داخلی احتجاج، بین الاقوامی دباؤ، اور جوہری مذاکرات کے غیر یقینی حالات سب ایک ساتھ موجود ہیں، اور ملک میں سیاسی اور سیکیورٹی کا ماحول انتہائی حساس ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C