19/February/2025

باجوڑ میں فائرنگ سے پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

👁️ 621 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
باجوڑ میں فائرنگ سے پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

باجوڑ میں فائرنگ سے پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

خار + پشاور (نمائندہ ڈیلی اردو/اے ایف پی) خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں شدت پسندوں کی فائرنگ سے پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار رب دیمل شاہ ہلاک ہوگیا ہے۔

ڈیلی اردو کے مطاطق فائرنگ کا واقعہ تحصیل ماموند کے علاقہ ڈمہ ڈولہ سیرئی میں پیش آیا جہاں پولیو ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار پر موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔

دوسری جانب عالمی شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دنیا بھر میں صرف پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک ہیں، جہاں پولیو باقی ہے جبکہ عسکریت پسند کئی دہائیوں سے ویکسینیشن ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان میں پولیو دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، اس سال اب تک 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ سال 2024 میں کم از کم 74 بچے پولیو سے متاثر ہوئے، جن کی تعداد 2023 میں 6 رہی تھی۔

باجوڑ ضلع کے ایک پولیس افسر نیاز محمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ 2 موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، تاہم پولیو ٹیم محفوظ رہی۔

ضلع باجوڑ کی افغانستان کے ساتھ 52 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔

ایک سینئر پولیس اہلکار وقاص رفیق کے مطابق علاقے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے بعد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ضلع میں پولیو مہم کے آغاز میں تاخیر ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے باوجود جائے وقوعہ کے علاوہ (ضلع کے) تمام علاقوں میں مہم جاری ہے۔

پولیو زیادہ تر 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتا ہے اور بعض اوقات عمر بھر کے فالج کا سبب بنتا ہے لیکن انسداد پولیو کے قطرے استعمال کرنے سے اسے آسانی سے روکا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C