بلوچستان: ژوب میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے قافلے پر خودکش حملہ، 7 افراد زخمی
👁️ 55 بار دیکھا گیا
بلوچستان: ژوب میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے قافلے پر خودکش حملہ، 7 افراد زخمی
کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی/وی او اے) صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے قافلے پر خود کش حملے میں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم ابھی تک کسی گروپ یا تنظیم نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
کمشنر ژوب ڈویژن سعید احمد عمرانی نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں سراج الحق محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ایک جلسے سے خطاب کرنے کے لیے کوئٹہ سے ژوب روانہ ہوئے تھے۔
جماعت اسلامی نے دعوی کیا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا جس میں سراج الحق محفوظ رہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق پر خودکش حملہ
آج ژوب میں جلسہ عام سے خطاب کے لیے موجود تھے
امیر جماعت کو قافلے کی صورت میں لے جایا جا رہا تھا، خودکش حملہ آور نے اس دوران دھماکہ کیا
سراج الحق اس حملے میں محفوظ رہے
جماعت اسلامی کے 7 کارکنان زخمی ہیں، 4 کی حالت نازک ہے
امیر جماعت…— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) May 19, 2023
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور ہلاک ہو گیا جبکہ جماعت اسلامی کے 7 کارکنان زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 4 کی حالت نازک ہے۔
تاہم پولیس کی جانب سے اب تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے اس حملے کی ایک فوٹیج بھی جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیوں کے ایک قافلے کے گرد لوگ جمع ہیں کہ اچانک دھواں اٹھتا ہے اور لوگ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
اس فوٹیج میں ایک شخص کی لاش بھی دیکھی جا سکتی ہے جس کے بارے میں جماعت اسلامی کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ یہ خود کش حملہ آور تھا۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکریٹری اطلاعات ولی خان شاکرنے بتایا کہ ژوب کے قریب پہنچنے پر مقامی کارکنان کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے پہنچی۔
جب یہ قافلہ ژوب سے دو کلومیٹر پہلے ولمہ کے قریب پہنچا تو جماعت اسلامی کے امیر کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا۔
اس حوالے سے ڈرون فوٹیج میں بھی یہ دکھائی دے رہا ہے کہ قافلے کے درمیان دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی بھگڈر مچ جاتی ہے۔
ولی خان شاکر نے بتایا کہ دھماکے میں جماعت اسلامی کے امیر اور دیگر رہنما محفوظ رہے تاہم چند کارکنان زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے باعث جلسہ عام کو ملتوی نہیں کیا گیا بلکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ سراج الحق نے جلسہ گاہ پہنچ کر خطاب کیا۔
کمشنر ژوب ڈویژن سعید احمد عمرانی کا کہنا تھا کہ چار افراد معمولی زخمی تھے جن کو ژوب میں طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ ایک زخمی کو کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سراج الحق کے قافلے پر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ژوب میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے قافلے پر خودکش حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ قیمتی جانوں کے ضیاع پردل رنجیدہ ہے۔ میں نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ حملے کی تمام زاویوں سے تحقیقات کرے اور اس خوفناک حملے میں ملوث کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اللّہ پاک…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 19, 2023
وزیرِ اعلٰی بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے امیر جماعت اسلامی کے قافلے پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔
ترجمان وزیرِ اعلٰی بلوچستان بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے حوالے سے کوئی تھریٹ الرٹ نہیں تھا۔ تاہم امیرِ جماعت اسلامی کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
ژوب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 3 سو 35 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔
جماعت اسلامی پر حملے
جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق پر ہونے والا حملہ پہلا نہیں ہے۔
اس سے قبل نومبر 2012 میں سابق قبائلی ضلع مہمند میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں حملہ آور خاتون تھیں۔
قاضی حسین احمد اس حملے میں محفوظ رہے تھے جبکہ اس حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔
قاضی حسین احمد کے افغانستان اور پاکستان کے طالبان کے حوالے سے ایک بیان کے نتیجے میں اپریل 2012 میں ٹی ٹی پی کے اس وقت کے مرکزی امیر حکیم اللہ محسود نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ “جماعت اسلامی پاکستان میں طالبان کے جاری جہاد کو فساد قرار دیتی ہے اور خودکش حملوں کو حرام سمجھتی ہے۔”
اپریل 2010 میں جماعت اسلامی پشاور کی ایک مہنگائی مخالف ریلی پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ جماعت اسلامی سے وابستہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں فعال تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ ایک کمانڈر میجر مست گل بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہوگئے تھے۔
میجرمست گل نے 1995ء میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تاریخی چرارشریف کے مزار پربھارتی افواج کے گھیراؤ سے زندہ بچ کر نکلنے پر شہرت پائی تھی۔ کافی عرصہ غائب رہنے کے بعد وہ فروری 2014 کو ٹی ٹی پی کے بینرکے نیچے تنظیم کے رہنما مفتی حسان کے ہمراہ شمالی وزیرستان میں نظر آئے تھے جہاں انہوں نے پشاور میں شیعہ کمیونٹی پرایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4599 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2466 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2118 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1915 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C