بنگلہ دیش: ’ہم بھی اب مسجد میں آزادانہ نماز ادا کر سکیں گے‘، ٹرانس جینڈر کمیونٹی
👁️ 271 بار دیکھا گیا
بنگلہ دیش: ’ہم بھی اب مسجد میں آزادانہ نماز ادا کر سکیں گے‘، ٹرانس جینڈر کمیونٹی
ڈھاکا (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو/اے ایف پی) دارالحکومت ڈھاکہ کے شمال میں دریائے برہم پترا کے کنارے میمن سنگھ کے قریب ٹرانس جینڈرافراد کے لیے قائم یہ پہلی مسجد، حکومت کی طرف سے عطیہ کردہ زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔
بنگلہ دیش کی ٹرانس جینڈر کمیونٹی، جنہیں عام طور پر مساجد میں آزادانہ نماز کی اجازت نہیں ہوتی، اب اس مسلم اکثریتی ملک میں ان کے لیے قائم کی گئی ایک نئی مسجد میں بلا تفریق عبادت کرسکے گی۔
ٹن سے بنی چھت اور ایک کمرے پر مشتمل یہ سادہ سی مسجد ٹرانس جینڈر افراد کے لیے ایک نیا کمیونٹی مرکز ہے۔ یہ کمیونٹی حالیہ برسوں میں قانونی اور سیاسی طور پر اپنی پہچان تو حاصل کرتی رہی ہے، تاہم اس کے باوجود تعصب کا شکار ہے۔
کمیونٹی لیڈر جوئیتا ٹونو نے بھری جماعت سے ایک تقریر میں کہا، ”اب سے، کوئی بھی ہیجڑے کو ہماری مسجد میں نماز پڑھنے سے نہیں روک سکتا۔” 28 سالہ ٹرانس جینڈر نے مزید کہا۔ “کوئی بھی ہمارا مذاق نہیں اڑا سکتا۔”
دارالحکومت ڈھاکہ کے شمال میں دریائے برہم پترا کے کنارے میمن سنگھ کے قریب یہ مسجد، حکومت کی طرف سے عطیہ کردہ زمین پر تعمیر کی گیی ہے۔ بنگلہ دیش میں شہر کی ٹرانس جینڈر برادری کو دوران جماعت مسجد سے نکالے جانے کا واقعہ بھی پیش آچکا ہے۔
اب اس مسجد میں عبادت کے لیے آنے والے ٹرانس جینڈر افراد انتہائی خوش ہیں، 42 سالہ سونیا جو بچپن میں قرآن کی تلاوت کرنا پسند کرتی تھیں اور ایک اسلامی مدرسے میں پڑھتی تھیں نے کہا، “میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں اپنی زندگی میں دوبارہ کسی مسجد میں نماز پڑھ سکوں گی۔” سونیا جب ٹرانس جینڈر کے طور پر معاشرے کے سامنے آئیں تو انہیں مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا تھا۔
انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ “لوگ ہم سے کہتے آپ ٹرانس جینڈر ہیں یہاں مسجدوں میں نہیں آپ کو گھر میں نماز پڑھنی چاہیے، مساجد میں مت آئیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “ہمارے لیے یہ توہین آمیز سلوک تھا، اسی لیے ہم مسجد میں نہیں جاتے تھے۔ اب یہ ہماری مسجد ہے، اب کوئی ہم سے ایسا نہیں کہہ سکتا۔”
بنگلہ دیش میں ٹرانس جینڈر افراد کو دوہزار تیرہ سے تیسری جنس کے طور پر قانونی شناخت حاصل ہے۔ کئی ٹرانس جینڈر افراد سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ ایک ٹرانس جینڈر خاتون دوہزار اکیس میں قصبے کی مئیر بھی منتخب ہوئی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ابھی بھی ٹرانس جینڈر کمیونٹی بنیادی شناخت اور قبولیت کے لیے جدوجہد کررہی ہے ۔ ان کے لیے جائیداد اور شادی کے حقوق کے حوالے سے ابھی بھی کام نہیں ہوا۔
انہیں ملازمت میں بھی اکثر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹرانس جینڈر افراد کے ایک اوسط بنگلہ دیشی کے مقابلے میں پرتشدد جرائم اور غربت کا شکار ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ سخت گیر اسلام پسند گروپ بھی ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی بنگلہ دیشیوں کی شناخت کے طور شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔
ٹرانس جینڈرافراد کی ایک فلاحی تنظیم کے بانی مفتی عبدالرحمن آزاد نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ نئی مسجد بنگلہ دیش میں اپنی نوعیت کی پہلی مسجد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور شہر میں اسی طرح کی ایک کوشش کا منصوبہ گزشتہ ماہ مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد روک دیا گیا تھا۔
اس ماہ کھولی جانے والی اس مسجد کی تعمیر کے لیے درجنوں مقامی ٹرانس جینڈر افراد نے وقت دیا اور رقم عطیہ کی، جس میں ایک قبرستان بھی ہے۔ گزشتہ برس ایک مقامی مسلم قبرستان نے ایک نوجوان ٹرانس جینڈر کو وہاں دفن کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
مسجد کے پینسٹھ سالہ امام عبدالمطلب نے کہا کہ ٹرانس جینڈر افراد پر ظلم و ستم ان کے عقیدے کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ، “وہ اللہ کے بنائے ہوئے دوسرے لوگوں کی طرح ہیں۔ ہم سب انسان ہیں، شاید کچھ مرد ہوں، کچھ عورتیں، لیکن سب انسان ہیں۔ اللہ نے قرآن پاک سب کے لیے نازل کیا، اس لیے ہر ایک کو نماز پڑھنے کا حق ہے، کسی کو انکار نہیں کیا جا سکتا۔”
عبدالمطلب نے مزید کہا کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کا عقیدہ اور ایمان بہت مضبوط ہے دیگر لوگ بھی اس سے سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے “میں یہاں اس مسجد میں آیا ہوں، میں ان کے کردار اور عمل سے بہت متاثر ہوا ہوں۔”
مقامی رہائشی 53 سالہ توفضل حسین نے مسلسل دوسرے ہفتے وہاں جمعہ کی نماز ادا کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے ساتھ رہنے اور نماز پڑھنے سے ان کے بارے میں ان کے “غلط تصورات” بدل گئے ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب وہ ہمارے ساتھ رہنے لگے تو بہت سے لوگوں نے بہت سی باتیں کہیں۔ “لیکن ہم نے محسوس کیا ہے کہ لوگ جو کہتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے۔ وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح نیک زندگی گزارتے ہیں۔”
ٹونو کو امید ہے کہ اس سادہ اور چھوٹی سی مسجد کو اتنا بڑا بنایا جائے گا کہ یہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی گنجائش ہو سکے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، “انشاءاللہ، ہم یہ بہت جلد کر لیں گے۔ اور یہاں سینکڑوں لوگ ایک ساتھ نماز پڑھ سکیں گے ۔”
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے لیے تہران پہنچ گئے، امریکا ایران ثالثی پر بات چیت متوقع
20/October/2026 👁️ 37 بار دیکھا گیا
ایرانی سپریم لیڈر ایٹم بم بنانے اور جوہری عدم پھلاؤ کے معاہدے سے نکلنے کا حکم دے سکتے ہیں ، ایرانی مشیر قومی سلامتی
20/October/2026 👁️ 102 بار دیکھا گیا
ایران کے کونارک بحری اڈے پر مبینہ امریکی حملہ، دو فوجی زخمی؛ واشنگٹن نے دعوے کی تردید کردی
20/October/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
روس ایران کے ساتھ تعاون ختم نہیں کرے گا، لاوروف کا تہران میں اعلان
19/October/2026 👁️ 111 بار دیکھا گیا
احمد آباد بم دھماکے کیس: بھارتی سپریم کورٹ نے محمد تنویر کی سزائے موت روکنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دےدیا
19/October/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
بلوچستان: چاغی میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک، متعدد زخمی
19/October/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15624 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11919 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9273 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7532 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5486 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C