15/January/2026

تہران کے مردہ خانے میں لاشوں کے انبار، مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی ہولناک ویڈیوز سامنے آ گئیں

👁️ 196 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تہران کے مردہ خانے میں لاشوں کے انبار، مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی ہولناک ویڈیوز سامنے آ گئیں

تہران کے مردہ خانے میں لاشوں کے انبار، مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی ہولناک ویڈیوز سامنے آ گئیں

تہران (ڈیلی اردو/بی بی سی) ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع ایک بڑے مردہ خانے سے سامنے آنے والی نئی ویڈیوز نے مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد ہلاکتوں کے پیمانے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان ویڈیوز میں بڑی تعداد میں لاشیں، زخمی افراد اور اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین لوگوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

 

بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی کی جانب سے تجزیہ کی گئی ان ویڈیوز کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ یہ فوٹیج 28 دسمبر کو بدامنی کے آغاز کے بعد ہونے والے سخت ترین کریک ڈاؤن کی ایک ہولناک تصویر پیش کرتی ہیں۔

 

فارنزک تجزیے کے مطابق مردہ خانے کے مختلف حصوں میں لگ بھگ 200 لاشیں موجود دکھائی دیتی ہیں، جبکہ کئی زخمی افراد بھی نظر آتے ہیں۔ ایک ہلاک ہونے والے کی عمر 16 سال بتائی گئی ہے۔

 

تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرے ایران کے کم از کم 68 شہروں اور قصبوں تک پھیل چکے ہیں، تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ پر عائد پابندی کے باعث کروڑوں ایرانیوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع رہا۔

 

مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مکمل اور سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ تاہم امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کے مطابق بدامنی کے آغاز سے اب تک 2400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایک ایرانی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تقریباً دو ہزار افراد مارے گئے ہیں، تاہم ان ہلاکتوں کا ذمہ دار ’دہشت گردوں‘ کو قرار دیا گیا ہے۔

 

بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی اس مردہ خانے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز پر پہلے بھی رپورٹ کر چکے ہیں، تاہم نئی ویڈیوز کی شدت کے باعث انہیں نشر نہیں کیا جا رہا۔

 

یہ ویڈیوز امریکہ میں مقیم ایرانی سوشل میڈیا انفلوئنسر واحد کی جانب سے منگل کو پوسٹ کی گئیں، جن کے مطابق فوٹیج 10 جنوری کو جنوبی تہران کے کہریزک فارنزک میڈیکل سینٹر کے اندر بنائی گئی۔ واحد کے مطابق ویڈیوز بنانے والے شخص نے انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے طویل سفر کیا اور پڑوسی ممالک کے موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے فوٹیج اپ لوڈ کی۔

 

ویڈیوز میں مختلف حصوں میں قطار در قطار لاشیں، باڈی بیگز اور ایمبولینسز دیکھی جا سکتی ہیں، جبکہ سرکاری اہلکار لاشوں کی شناخت کے عمل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ بعض باڈی بیگز پر نام، شناختی نمبر اور تاریخ درج ہے، جبکہ کچھ کو نامعلوم قرار دیا گیا ہے۔

 

بی بی سی ویریفائی کے مطابق ویڈیوز میں شامل مختلف کلپس کے تجزیے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فوٹیج دن کے مختلف اوقات میں بنائی گئی ہیں اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے مقام کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔

 

عینی شاہدین کے مطابق مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے باعث ہسپتالوں پر شدید دباؤ ہے، جس کے بعد لاشوں کو بڑے پیمانے پر مردہ خانوں میں منتقل کیا گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C