16/September/2025

جرمنی: جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی ملک بدری کی تیاریاں

👁️ 430 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جرمنی: جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی ملک بدری کی تیاریاں

جرمنی: جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی ملک بدری کی تیاریاں

برلن (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے/روئٹرز) جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزانڈر ڈوبرنٹ نے تصدیق کی ہے کہ جرمنی میں جرائم میں ملوث افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کے لیے طالبان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ براہِ راست تکنیکی رابطے قائم کیے گئے ہیں۔

 

ڈوبرنٹ نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ملک بدری خود بخود ممکن ہو، اسی لیے وزارت داخلہ کے اہلکار اور افغانستان کے نمائندے تکنیکی مذاکرات کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ جرمن وفود نے قطر میں افغان نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور آئندہ ہفتوں میں مزید ملاقاتیں طے ہیں۔

 

جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے بھی تصدیق کی کہ دوحہ میں ملک بدری پر مذاکرات جاری ہیں اور کابل میں ملاقاتیں لازمی نہیں۔ جولائی میں جرمنی نے ایسے 81 افغان شہریوں کو ملک بدر کیا تھا جو جرائم میں سزا یافتہ تھے۔

 

طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان میں حکومت سنبھالی تھی، لیکن جرمنی نے انہیں جائز حکومت تسلیم نہیں کیا اور طالبان کے ساتھ کوئی سرکاری سفارتی تعلق قائم نہیں رکھا۔

 

گرین پارٹی کے پالیسی ترجمان مارسِل ایمریش نے اس اقدام کو ’’اسکینڈل‘‘ قرار دیا اور کہا، ’’عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ دہشت گردوں کے بدلے میں کیا حاصل کیا جا رہا ہے۔ ڈوبرنٹ خود کو ایک اسلام پسند تنظیم کا محتاج بنا رہے ہیں اور ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘‘

 

جرمنی میں مہاجرت کا مسئلہ حالیہ انتخابات میں مرکزی موضوع رہا ہے۔ وفاقی چانسلر فریڈرش میرس نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان اور شام سے تعلق رکھنے والے مجرم مہاجروں کو واپس بھیجا جائے گا، اور افغانستان میں جرمن اداروں کے سابق مقامی عملے کے لیے پناہ گزین پروگرام معطل کیے جائیں گے۔

 

افغان شہریوں کی پہلی ملک بدری اگست 2024 میں زولنگن میں ایک مہلک چاقو حملے کے بعد کی گئی تھی، جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد جرمنی نے ایسے مہاجروں کی ملک بدری کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

 

انسانی حقوق کے کارکنان نے اس اقدام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان محفوظ نہیں اور افغان شہریوں کی ملک بدری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

 

اگرچہ جرمنی طالبان حکومت کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کرتا، لیکن فریڈرش میرس انتظامیہ نے جولائی میں دو افغان اہلکاروں کو جرمنی میں افغان سفارتی مشنز میں کام کرنے کی اجازت دی تاکہ ملک بدری کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔ 

 

چانسلر نے واضح کیا کہ قونصلر عملے کو کام کرنے کی اجازت کے باوجود طالبان حکومت کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C