13/February/2025

جرمنی میں افغان پناہ گزین نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، 28 افراد زخمی ،حملہ آور گرفتار

👁️ 159 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جرمنی میں افغان پناہ گزین نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، 28 افراد زخمی ،حملہ آور گرفتار

جرمنی میں افغان پناہ گزین نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، 28 افراد زخمی ،حملہ آور گرفتار

برلن (ڈیلی اردو/رائٹرز/ڈی پی اے/اے ایف پی/بی بی سی) جرمنی کے شہر میونخ میں پناہ کے متلاشی ایک افغان باشندے نے جمعرات کے روز اپنی گاڑی عام لوگوں کے ایک ہجوم پر چڑھا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم اٹھائیس افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ ایک مشتبہ کار ’حملہ‘ ہے۔

جرمنی کے جنوبی صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق عام لوگوں کے ایک ہجوم پر گاڑی چڑھا دینے والا مشتبہ ملزم فرہاد نوری افغانستان کا شہری ہے، جس نے جرمنی میں پناہ کی درخواست دے رکھی تھی اور جس کی عمر 24 سال ہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ میونخ میں ایسے وقت پر پیش آیا، جب اسی جرمن شہر میں کل جمعے اور پرسوں ہفتے کے روز میونخ سکیورٹی کانفرنس کے نام سے وہ سالانہ بین الاقوامی اجتماع بھی منعقد ہونے والا ہے، جس میں دنیا کے درجنوں ممالک سے سینکڑوں سرکردہ رہنما اور اعلیٰ شخصیات حصہ لیتی ہیں۔

امسالہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں سینکڑوں دیگر اہم شخصیات کے علاوہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور یوکرین کے صدر زیلنسکی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اس واقعے میں ہوا کیا؟

میونخ پولیس کے مطابق اس واقعے کے وقت اس شہر میں جرمنی کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین ویردی کے کارکنوں کی طرف سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا تھا اور وہاں سکیورٹی کے لیے پولیس کی کئی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔

ملزم اپنے گاڑی میں وہاں پہنچا اور اس نے تیز رفتاری سے اپنی گاڑی وہاں موجود لوگوں پر چڑھا دی۔

میونخ کے ڈپٹی میئر ڈومینک کراؤس نے بتایا کہ زخمیوں میں میونخ سٹی انتظامیہ کے ملازمین بھی شامل ہیں۔

کراؤس کا کہنا ہے کہ ٹریڈ یونین ریلی کے کئی شرکا اپنے بچوں کو بھی اپنے ساتھ اس احتجاج میں لے کر آئے تھے۔

جرمنی بھر میں لوگوں میں اس واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

اسی واقعے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ جرمنی میں حالیہ ہفتوں میں پرتشدد حملوں کے متعدد ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں ، جن میں بہت سے افراد زخمی ہوئے اور چند مارے بھی گئے۔ اب 23 فروری کو ہونے والے جرمن قومی انتخابات سے چند ہی روز قبل اس نئے ‘حملے‘ کی وجہ سے داخلی سکیورٹی انتظامات ایک بار پھر موضوع بحث بن گئے ہیں۔

اس واقعے کے فوراً بعد اور ابتدائی اطلاعات کی روشنی میں صوبے باویریا کے وزیر اعلیٰ مارکوس زوئڈر نے کہا، ”یہ ممکنہ طور پر ایک کار حملہ ہے۔‘‘

پولیس کے مطابق موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے اس ‘حملے‘ کے مشتبہ ملزم کو گرفتار کر لیا اور وہ اب امن عامہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔

عینی شاہدین کے بیانات

ایک چشم دید گواہ نے، جو اس وقت ایک قریبی آفس بلڈنگ میں ایک کھڑکی کے پاس کھڑا تھا، بتایا کہ ملزم جو گاڑی چلا رہا تھا، وہ ایک منی کوپر کار تھی اور اس نے پولیس کی گاڑیوں کے قریب سے گزرنے کے فوری بعد اپنی گاڑی کی رفتار بہت تیز کر کے اسے مظاہریں پر چڑھا دیا تھا۔

اسی طرح ایک خاتون عینی گواہ نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ مشتبہ ملزم نے اپنی گاڑی ہجوم پر اتنی رفتار سے چڑھائی کہ فوری طور پر متعدد افراد اس کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گئے۔

یہ واقعہ جس جگہ پیش آیا، وہ اسی شہر میں میونخ سکیورٹی کانفرنس کے انعقاد کی جگہ سے صرف ایک میل یا تقریباﹰ ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے۔

چانسلر شولس کا واضح موقف

پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے کم از کم 28 افراد میں سے متعدد شدید زخمی ہوئے ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کے زخم ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔

باویریا کے صوبائی وزیر داخلہ یوآخم ہیرمان کے مطابق اس ‘حملے‘ کا مشتبہ افغان ملزم ماضی میں پولیس کی نظروں میں آ چکا تھا۔ وہ مبینہ طور پر مختلف سٹوروں سے اشیا چرانے اور نارکوٹکس ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔

اس ‘حملے‘ پر جرمنی میں سبھی سرکردہ سیاستدانوں نے غم و غصے اور گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی چانسلر اولاف شولس نے اس بارے میں کہا کہ یہ ایک خوفناک اور قابل مذمت حملہ ہے، جس کے مرتکب ملزم کو اس کے جرم کی سزا دی جائے گی۔

چانسلر شولس نے کہا، ”ہر کسی پر یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ جو کوئی بھی ایسے کسی جرم کا مرتکب ہو گا، اسے نہ صرف اس کے کیے کی سزا ملے گی بلکہ ایسی صورت میں ایسے عناصر کو جرمنی میں قیام پذیر رہنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سنہ 2016 میں برلن کے کرسمس بازار میں ایک ٹرک کو تیونس سے تعلق رکھنے والے پنا گزین شخص نے لوگوں کے ایک ہجوم پر چڑھا دیا تھا۔ اس واقعے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں مگڈیبرگ شہر کے کرسمس بازار میں ایک کار نے ہجوم کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے میں چھ افراد ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے میں ایک 50 سالہ سعودی شہری ملوث تھا۔

یاد رہے کہ جرمنی میں آئندہ ہفتے عام انتخابات ہونے والے ہیں اور اس سے قبل پناہ گزینوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C