08/October/2026

حوثیوں کا سعودی ڈرون گرانے اور اہم اہداف پر میزائل حملوں کا دعویٰ

👁️ 95 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حوثیوں کا سعودی ڈرون گرانے اور اہم اہداف پر میزائل حملوں کا دعویٰ

حوثیوں کا سعودی ڈرون گرانے اور اہم اہداف پر میزائل حملوں کا دعویٰ

صنعاء (ڈیلی اردو) یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ تعز میں سعودی عرب کے زیر استعمال ترکیہ ساختہ بیرقدار آقنچی ڈرون کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے، جبکہ باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ٹھکانوں اور اجتماعات پر بھی بیلسٹک میزائل حملے کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے کہا ہے کہ آقنچی ڈرون تعز کے علاقے میں ایک جاسوسی اور فوجی مشن پر پرواز کر رہا تھا جسے مناسب ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ڈرون گرائے جانے کے حوثی دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

حوثی ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے اجتماعات اور فوجی مقامات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جس کے گرد حالیہ دنوں میں سعودی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں نمایاں شدت آئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان لڑائی کا مرکز اب خاص طور پر جنوب مغربی یمن کا صوبہ تعز اور باب المندب کے اطراف کا علاقہ بن چکا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ فورسز حوثیوں کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے حکومتی علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور جنوبی شہر ابہا کے ایئرپورٹ کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین ہلاک جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے، جبکہ ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک سوڈانی شہری ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوئے۔ یوں دونوں حملوں میں مجموعی طور پر 3 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔

سعودی قیادت میں اتحاد نے ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق میزائل لانچ کیے جانے کے مقام کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور اس مقام کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی جائے گی۔

ادھر یمن کے جنوبی شہر عدن کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کو بھی حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یمنی حکومت کے مطابق کم از کم ایک میزائل رن وے کے قریب اس وقت گرا جب قاہرہ سے آنے والی پرواز لینڈنگ کی تیاری کر رہی تھی، جس کے باعث پرواز کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔

رائٹرز کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز کی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں اور جوابی حملوں کے باعث یمن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ باب المندب کے گرد جاری لڑائی نے عالمی بحری تجارت کے لیے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ سعودی اتحاد نے حوثیوں کے متعدد فوجی مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں تعز، بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے اور باب المندب یمن کی جنگ کے اہم ترین محاذ بن گئے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حالیہ حملوں نے تنازع کو یمن کی سرحدوں سے باہر مزید نمایاں کردیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C