15/October/2026

خلیج عمان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک کشتی تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ، عملے کو پہلے نکال لیا گیا

👁️ 107 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خلیج عمان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک کشتی تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ، عملے کو پہلے نکال لیا گیا

خلیج عمان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک کشتی تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ، عملے کو پہلے نکال لیا گیا

 واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 6 اکتوبر کو خلیج عمان میں ایک روایتی بحری کشتی کو تباہ کیا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کی نگرانی اور انہیں نشانہ بنانے کے لیے معلومات فراہم کر رہی تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس کارروائی کی تفصیلات 14 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان اور ویڈیو کے ذریعے سامنے لائیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مذکورہ کشتی ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ کشتی کو تباہ کرنے سے پہلے اس پر موجود عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، جبکہ عملے کے ارکان کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے انتظامات جاری ہیں۔ تاہم، بیان میں کشتی کے عملے کی شناخت، قومیتوں یا ان افراد کی تعداد کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ اور امریکی حکام کے بیان پر مبنی بین الاقوامی میڈیا کی خبروں میں بھی اس واقعے کی تصدیق امریکی فوج کے حوالے سے کی گئی ہے۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خطے کے سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے عملے اور امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔ ان الزامات پر ایرانی حکام کا مؤقف اس واقعے سے متعلق دستیاب رپورٹوں میں شامل نہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باعث تجارتی جہاز رانی کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ روئٹرز کے مطابق 10 اکتوبر کو امریکی فوج نے ایک اور تجارتی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنا کر اس کا نظامِ حرکت ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق پاناما کے پرچم تلے سفر کرنے والا یہ جہاز ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد امریکی بحری ناکہ بندی سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم اس واقعے میں عملے کو نقصان نہ پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جبکہ خلیج عمان اس کے قریب واقع ہونے کے باعث علاقائی بحری سرگرمیوں میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ حالیہ واقعات نے اس خطے میں تجارتی جہازوں کی حفاظت اور امریکہ و ایران کے درمیان مزید کشیدگی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C