09/February/2025

دہشتگردی کی کمر! قاسم عثمانی

👁️ 415 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دہشتگردی کی کمر!           قاسم عثمانی

دہشتگردی کی کمر! قاسم عثمانی

اگست 2021 میں فتحِ کابل منانے والوں میں نہ صرف ہماری سیاسی بلکہ عسکری قیادت بھی پیش پیش تھی۔ سیاسی قیادت اس لیے کہ امریکہ مخالف اور مخصوص مذہبی جذبات کو اجاگر کر کے عوامی تائید حاصل کی جائے جبکہ عسکری قیادت اس لیے کیونکہ اسے اپنی تزویراتی گہرائی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ شومئی قسمت کہ ہماری خوشیوں کو حالات کے یوٹرن نے اچانک مخاصمت اور رنجشوں میں بدل ڈالا۔

ان چند سالوں میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات تواتر سے بڑھتے ہی چلے گئے حتی کہ سال 2024 میں تحریکِ طالبان پاکستان نے وطنِ عزیز میں سترہ سو سے زائد حملے کر کے سن 2010 کی سی وحشت طاری کر دی۔ مگر قابلِ غور پہلو یہ ہے کابل کی فتح کے بعد ان حملوں کی نوعیت، اثر اور حدود میں بہت سی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ ان میں نئی عسکری تنظیموں کی طرف سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا شامل ہے جیسے تحریک جہاد پاکستان جس نے میانوالی ہوائی اڈہ پر بڑا حملہ کرنے سمیت متعدد کاروائیوں کی ذمہ داری لی، حافظ گل بہادر گروپ کی طرف سے حملے اور لشکرِ اسلام جیسی غیر فعال تنظیم کا اعلانِ جہاد وغیرہ شامل ہیں۔

یہاں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دراصل پاکستانی طالبان ہی ہیں کیونکہ کسی نئی جماعت کے لیے یک دم منظم ہو کر یوں حملے کرنا ممکن نہیں۔ کچھ وقت کے لیے پاکستانی طالبان کا پسِ پردہ رہ کر حملے کرنے، ذمہ داری سے انکار یا ان میں سے کسی جماعت کی ذمہ داری لینے کی ایک ممکنہ وجہ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان پر بڑھتا ہوا سفارتی دباو بھی تھا۔

ان تین سالوں میں دہشت گردی کے واقعات کا مرکز شمالی و جنوبی وزیرستان اور بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت کے علاقے رہے۔ دہشت گردی کی یہ لہر اتنے زور و شور سے شہری آبادی تک تو نہ پہنچ پائی مگر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں حالات ناقابلِ فہم حد تک بگڑ چکے ہیں۔ دہشتگردی کے ان واقعات کا ٹارگٹ بطور خاص مسلح افواج، پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے رہے۔ ان حملوں میں لیزر، اسنائپر اور نائٹ ویژن جیسے جدید آلات سمیت ڈرون کیمروں کے استعمال نے عسکری قوتوں کے لیے ایک گمبھیر صورتحال کھڑی کر دی ہے۔ مانا جاتا ہے یہ جدید اسلحہ امریکی اتحادی افواج کی باقیات ہیں جو نہ صرف طالبان بلکہ بلوچستان کی علیحدگی پسند عسکری تنظیموں کے ہاتھ بھی لگ چکا ہے۔ عسکری امور پر نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں نے فتح کابل کے بعد امریکی اسلحہ کی بندر بانٹ سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اس غیر فطری گٹھ جوڑ کی بڑی وجہ ‘دشمن کا دشمن دوست’ ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ایک طرف جہاد کا مقصد شرعی نظام کا نفاذ ہے جبکہ دوسری طرف بلوچستان کو ایک آزاد ریاست بنانا مقصود ہے۔ ایک طرف طالبان پورے پاکستان میں شریعت نافذ کر کے ‘گریٹر افغانستان’ کے خواب دیکھتے ہیں جبکہ دوسری طرف بی ایل اے جیسی مسلح تحریکیں پاکستان اور ایران دونوں سے بلوچستان آزاد کروانے کے سپنے دیکھتی ہیں۔

امارت اسلامی افغانستان کے قیام کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے خودکش حملوں کا تقریباً نہ ہونا یا ذمہ داری سے انکار ایک قابلِ غور تبدیلی کے طور پر سامنے آئی۔ تحریک طالبان پاکستان کے ماہ وار حملوں کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس تنظیم نے تمام وسائل لیزر و اسنائپر، گوریلا اور گھات حملوں پر مرکوز کر دیے ہیں۔ اس کی ایک وجہ کم وسائل میں زیادہ نقصان برپا کرنا یعنی دور بیٹھے جدید ہتھیاروں کی مدد سے افواجِ پاکستان پر موثر ترین حملے یقینی بنانا اور پاکستانی فوج کے جوابی حملہ کی صورت میں جانی نقصان سے بھی بچ جانا ہو سکتا ہے۔ ایک اور ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی کہ خود کش حملوں کی جگہ مندرجہ بالا نوعیت کے حملے عام میڈیا کی زینت نہیں بنتے اور ان سے افغان طالبان پر سفارتی دباو بھی نہیں آتا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلح افواج کی طرف سے پے در پے IBOs ، ڈرون کیمروں اور دیگر جدید آلات کی مدد سے کڑی زمینی و فٖضائی نگرانی اور مستعد گراونڈ انٹیلیجنس نیٹ ورک نے دہشتگری کی روک تھام کافی حد تک یقینی بنائی۔
تاہم سب سے بڑی تبدیلی بیانیہ کی جنگ میں دیکھنے کو آئی۔ نور ولی محسود نے اپنے 2018 کے منشور کے مطابق اس بیانیے پر کاربند نظر آتے کہ مزاحمت صرف اور صرف مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ہے۔ تمام سیاسی و معاشی مسائل کا ذمہ دار مسلح افواج کو ٹھہرا کر عوام کو ورغلانے کا یہ نسخہ زہر قاتل ٖثابت ہوا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے فوج مخالف جذبات اور اس بنا پرعوامی تائید حاصل کرنے کی یہ ابلاغی جنگ جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی ہے۔ اس کی ایک مثال تو نور ولی کی قیادت میں اب تک قریب خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے اب تک 45 سے زائد عسکری گروہوں کی تحریک میں شمولیت ہے۔

مفتی نور ولی محسود کے زیرِ انتظام تحریکِ طالبان پاکستان نے سوشل میڈیا پر تقریباً ہر سیاسی و سماجی موضوع پر اپنا ردِ عمل بیان کرنا شروع کر دیا۔ اپنی آن لائن موجودگی کو آڈیو، ویڈیو پیغامات، کالمز، پوڈ کاسٹ اور پیغام رسانی کے ہر مروجہ ذریعے سے یقینی بنایا گیا۔ اس بیانیہ میں خاص توجہ پورے ملک کی ‘مظلوم عوام’ پر ہوتی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان نے یہ پیغام عام کیا ہے کہ یہ فقط پشتونوں کی تحریک نہیں ہے بلکہ ہر ‘مظلوم’ طبقہ کی آواز ہے جس میں پنجابی، سندھی اور بالخصوص بلوچ عوام کو شمولیت کا برابر حق حاصل ہے۔ اس طاقتور بیانیہ کی بدولت تحریک نے ملک کے کونے کونے سے نہ صرف مسلح گروہوں کو شامل کیا بلکہ افواجِ پاکستان سے بدزن عناصر کو بھی متاثر کیا۔

دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر پاکستانی افواج نے مبینہ طور پر گرینڈ آپریشن کی بات کی جسے نہ صرف حکومتی بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ چناچہ آرمی نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ سفارتی سطح پر افغان طالبان کو تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کاروائی پر بھی مسلسل اسرار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ابلاغی سطح پر مقابلے کے لیے اب ‘فتنہ الخوارج’ کی اصطلاح کو عام کیا گیا ہے۔

دریں اثنا ماہ جنوری 2025 میں تحریک نے ایک خود کش حملہ سمیت 110 حملوں کی ذمہ داری قبول کی جس میں بھاری جانی و مالی نقصان درج ہے۔ اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ پاکستان کی یہ جوابی حکمتِ عملی دہشتگری کی کمر توڑنے کے لائق ہے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C