روس نیٹو پر جب چاہے محدود حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
👁️ 251 بار دیکھا گیا
روس نیٹو پر جب چاہے محدود حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
ماسکو (ڈیلی اردو/روئٹرز) ایک اعلیٰ جرمن فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ روس کے پاس کسی بھی وقت نیٹو کے علاقے پر محدود حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم کارروائی کا فیصلہ مغربی اتحادیوں کے ردِعمل پر منحصر ہو گا۔
لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر سولفرانک نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ''اگر آپ روس کی موجودہ صلاحیتوں اور جنگی طاقت کو دیکھیں تو روس کل ہی سے نیٹو کے علاقے پر ایک محدود پیمانے کا حملہ شروع کر سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''یہ کوئی بڑا حملہ نہیں ہو گا، چھوٹا، تیز اور علاقائی سطح تک محدود رہے گا۔ روس اس وقت یوکرین میں بری طرح مصروف ہے، اس لیے بڑے حملے کا امکان نہیں۔‘‘
سولفرانک، جو جرمنی کے مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے سربراہ ہیں اور دفاعی منصوبہ بندی کی نگرانی کرتے ہیں، نے یہ بھی کہا کہ اگر روس نے اپنے اسلحہ سازی کے منصوبے جاری رکھے، تو وہ ممکنہ طور پر 2029 تک نیٹو پر ایک بڑے پیمانے کا حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا انتباہ ہے جو نیٹو کے اپنے خدشات سے میل کھاتا ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ان الزامات کی تردید کی کہ ان کے ملک کے عزائم جارحانہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2022 میں یوکرین پر روس کا مکمل حملہ دراصل نیٹو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے دفاع میں کیا گیا اقدام تھا۔
روس کے پاس حملے کی صلاحیت اب بھی موجود
برلن کے شمالی حصے میں واقع اپنے ہیڈکوارٹرز، جو ایک وسیع فوجی بیرک ہے، میں گفتگو کرتے ہوئے سولفرانک نے کہا کہ یوکرین میں ناکامیوں کے باوجود روس کی فضائیہ اب بھی قابلِ ذکر جنگی طاقت رکھتی ہے، اور اس کے ایٹمی اور میزائل دستے بدستور مکمل طور پر فعال ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر سولفرانک نے کہا کہ اگرچہ بحیرۂ اسود کے بحری بیڑے کو نمایاں نقصان پہنچا ہے، لیکن روس کے دیگر بیڑے متاثر نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا، ''زمینی افواج کو نقصان ضرور ہوا ہے، لیکن روس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کل فوجی اہلکاروں کی تعداد 15 لاکھ تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘
سولفرانک نے مزید کہا، ''روس کے پاس اتنے اہم جنگی ٹینک موجود ہیں کہ ایک محدود حملے کا تصور کل ہی ممکن ہو سکتا ہے، اگرچہ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ایسا کوئی حملہ زیر غور نہیں ہے۔‘‘
سولفرانک 2024 میں قائم کیے گئے جرمنی کے مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے سربراہ ہیں۔ اس کمانڈ کا قیام ایک بڑی حکمتِ عملی تبدیلی کی علامت تھا۔ یعنی افغانستان یا مالی جیسے بیرونی مشنز سے ہٹ کر اب توجہ نیٹو کے اپنے علاقے کے دفاع پر مرکوز کرنا۔
نیٹو کے خدشات
حال ہی میں پولینڈ کی فضائی حدود میں روسی ڈرونز کی دراندازیوں نے مغربی ممالک میں روسی جارحیت کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسی سال کے اوائل میں برلن نے اپنی آئینی قرض کی حد میں نرمی کی تاکہ وہ نیٹو کے نئے فوجی اخراجات کے ہدف، یعنی 2029 تک قومی پیداوار کا 3.5 فیصد، کو پورا کر سکے۔ اس اقدام سے دفاعی بجٹ 2025 میں 100 ارب یورو سے بڑھ کر 2029 میں تقریباً 160 ارب یورو (187 ارب ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔
اس کے علاوہ، جرمنی نے اپنی مسلح افواج میں 60,000 مزید اہلکار شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس سے کل فوجی نفری تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچ جائے گی۔
روس کب حملہ کر سکتا ہے؟
لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر سولفرانک نے کہا کہ یہ فیصلہ کہ آیا ماسکو نیٹو پر حملہ کرنے کا انتخاب کرے گا یا نہیں، تین عوامل پر منحصر ہو گا۔ یہ ہیں روس کی فوجی طاقت، اس کی جنگی کارکردگی، اور اس کی قیادت۔
انہوں نے کہا کہ یہ تینوں عوامل مجھے اس نتیجے پر پہنچاتے ہیں کہ روسی حملہ ممکنات کے دائرے میں ہے۔ لیکن ''یہ ہوگا یا نہیں، یہ بڑی حد تک ہمارے اپنے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔‘‘
انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ نیٹو کی مزاحمتی حکمتِ عملی اس میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو کی ہائبرڈ جنگی حکمتِ عملی، جس میں ڈرون حملے اور دراندازیاں شامل ہیں، کو ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ سمجھنا چاہیے، جس میں یوکرین کی جنگ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، ''روسی اسے 'نان لینیئر وار فیئر‘ کہتے ہیں۔ ان کے نظریے کے مطابق، یہ وہ جنگ ہے جو روایتی ہتھیاروں کے استعمال سے پہلے لڑی جاتی ہے۔ اور جب وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دیتے ہیں، تو یہ دراصل خوف اور دباؤ کے ذریعے جنگ ہے۔‘‘
سولفرانک نے مزید کہا کہ روس کا مقصد نیٹو کو مشتعل کرنا اور اس کے ردِعمل کا اندازہ لگانا ہے، تاکہ وہ ''غیر یقینی کی فضا پیدا کرے، خوف پھیلائے، نقصان پہنچائے، جاسوسی کرے، اور اتحاد (نیٹو) کی مزاحمتی صلاحیت کو پرکھے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 225 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 278 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 179 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 157 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 266 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 322 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8970 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4830 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3664 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3580 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2570 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2324 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C