11/October/2026

ریاض ایئرپورٹ حملے کے بعد امریکہ کا حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا امکان، ٹرمپ

👁️ 108 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ریاض ایئرپورٹ حملے کے بعد امریکہ کا حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا امکان، ٹرمپ

ریاض ایئرپورٹ حملے کے بعد امریکہ کا حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا امکان، ٹرمپ

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں میں براہِ راست شامل ہونے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کا یہ بیان ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں سعودی حکام کے مطابق 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔

وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے حوثی باغیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اس پر امریکی صدر نے کہا کہ ایسا ممکن ہے، وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور حالیہ حملے کی اطلاعات ملنے کے بعد جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتے کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد پروازیں عارضی طور پر معطل کردی گئیں اور آنے والی پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ سعودی حکام نے بتایا کہ حملے میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوئے، جن میں سعودی شہریوں کے علاوہ بنگلہ دیش، امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کے شہری بھی شامل ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔

رائٹرز کے مطابق یہ ایک ہفتے کے دوران ریاض ایئرپورٹ پر تیسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل ہونے والے حملوں میں بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں اور سعودی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو نقصان پہنچا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی زندگیوں کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق حوثی باغیوں نے جمعرات کو ہونے والے پہلے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم ہفتے کے روز ہونے والے تازہ حملے کی ذمہ داری کی فوری طور پر واضح تصدیق نہیں ہوئی۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

یمن میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کے لیے بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اہم بحری راستے کے اطراف حوثیوں کی پیش قدمی بھی ایک بڑا سکیورٹی مسئلہ بن چکی ہے۔ امریکہ پہلے ہی سعودی کارروائیوں میں انٹیلی جنس اور ہدف بندی سے متعلق معاونت فراہم کر رہا ہے، تاہم ٹرمپ کا تازہ بیان امریکی فوج کی براہِ راست شرکت کے امکان کو نمایاں کرتا ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اگر واشنگٹن کارروائی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی نوعیت اور دائرہ کار کیا ہوگا۔
 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C