22/November/2025

سرینگر: بھارتی تحقیقاتی ادارے کا ’کشمیر ٹائمز‘ کے دفتر پر چھاپہ

👁️ 209 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سرینگر: بھارتی تحقیقاتی ادارے کا ’کشمیر ٹائمز‘ کے دفتر پر چھاپہ

سرینگر: بھارتی تحقیقاتی ادارے کا ’کشمیر ٹائمز‘ کے دفتر پر چھاپہ

سرینگر / نئی دہلی (ڈیلی اردو) بھارتی انسدادِ دہشت گردی یونٹس نے جمعرات کی شب معروف اخبار کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ بھارتی پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایک مبینہ ’’فوجداری سازش‘‘ کی تفتیش کے سلسلے میں کی گئی، جبکہ ادارے نے ان الزامات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

 

اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے دعویٰ کیا کہ چھاپے کا مقصد کشمیر ٹائمز کے اُن مبینہ روابط کی جانچ کرنا تھا جو ’’علیحدگی پسند اور دیگر ملک دشمن عناصر‘‘ کے ساتھ بھارت کے اندر اور بیرونِ ملک موجود ہیں۔

 

تاہم کشمیر ٹائمز نے اپنے بیان میں کہا کہ جس دفتر پر چھاپہ مارا گیا وہ گزشتہ چار برس سے بند اور غیر فعال ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 1954 میں قائم ہونے والا کشمیر ٹائمز سن 2022 میں اسی نوعیت کے ایک سرکاری چھاپے اور دفتر کی سیلنگ کے بعد صرف آن لائن اشاعت تک محدود ہو چکا ہے۔

 

کشمیر ٹائمز نے الزام لگایا کہ ’’ہمارے خلاف یہ کارروائیاں دباؤ بڑھانے، ساکھ کو نقصان پہنچانے اور بالآخر ہمیں خاموش کرانے کی کوشش ہیں۔‘‘

 

ایس آئی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ چھاپے کے دوران ایک ریوالور، چند گولیاں اور خالی خول برآمد کیے گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس برآمدگی سے ’’غیرقانونی اسلحہ رکھنے اور ممکنہ طور پر انتہا پسند یا ملک دشمن عناصر سے روابط‘‘ کے شبہات کو تقویت ملتی ہے، جن کی مزید تفصیلی تفتیش ضروری ہے۔

حکام نے کشمیر ٹائمز کے مالک پرابودھ جموال کے گھر پر بھی چھاپہ مارا۔

 

صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے ان کارروائیوں کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات جموں و کشمیر میں میڈیا پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C