17/November/2025

سیاسی پناہ؟ برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے 20 سال انتظار لازمی!

👁️ 351 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سیاسی پناہ؟ برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے 20 سال انتظار لازمی!

سیاسی پناہ؟ برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے 20 سال انتظار لازمی!

لندن (ڈیلی اردو/اے ايف پی/روئٹرز) برطانوی حکومت نے سياسی پناہ سے متعلق اپنی پاليسی ميں وسيع تر تراميم اور سختيوں کا اعلان کيا ہے۔ يہ قدم داخلی سطح پر دائيں بازو کی قوتوں کی مقبوليت ميں اضافے سے نمٹنے اور غير قانونی راستوں سے ہجرت کو روکنے کے ليے اٹھايا گيا ہے۔

 

سياسی پناہ سے متعلق نئے قوانين کيا ہيں؟

 

برطانيہ نے سياسی پناہ سے متعلق قوانين ميں تبديلی کر کے اپنی پاليسی ڈنماک کے ماڈل پر تشکيل دی ہے۔ مجوزہ تراميم ميں سياسی پناہ کی مدت پانچ سال سے کم کر کے تيس ماہ کر دی گئی ہے۔ اور جن کی درخواستيں منظور ہو جائيں، انہيں مستقل رہائش کے ليے پانچ سال کے بجائے بيس برس کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کيسز کا باقاعدگی سے جائزہ ليا جائے گا اور آبائی ممالک ميں حالات بہتر ہوتے ہی، مہاجرين کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ واپس لوٹيں۔

 

برطانوی وزارت داخلہ، جسے حرف عام ميں ہوم آفس بھی کہا جاتا ہے، نے انتراميمکو حاليہ وقتوں ميں سياسی پناہ سے متلعق پاليسی کی سب سے بڑی تبديلیاں قرار ديا۔ ہوم سيکرٹری شبانہ محمود نے اس بارے ميں کہا، ''ميں سياسی پناہ کے متلاشيوں کے ليے برطانيہ کا گولڈن ٹکٹ ختم کر دوں گی۔‘‘ وہ پير سترہ نومبر کو نئی پاليسی منظوری کے ليے پارليمان ميں پيش کرنے والی ہيں۔

 

غير قانونی راستوں سے کتنے افراد برطانيہ پہنچ رہے ہيں؟

 

اس سال اب تک غير قانونی راستوں سے برطانیہ پہنچنے والے افراد کی تعداد 39 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے اکثر نے فرانس کے شمالی حصّے سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل کا خطرناک سفر طے کیا۔ یہ تعداد سال 2024 کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم 2022 میں سابق کنزرویٹو حکومت کے دور ميں قائم ہونے والا ریکارڈ اب بھی برقرار ہے۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں پناہ کی درخواستیں بھی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ پچھلے تا رواں سال جون تک کے 12 ماہ میں تقریباً ایک لاکھ 11 ہزار افراد نے پناہ کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔

 

امدادی تنظيميں پاليسی کے خلاف

 

برطانیہ کی ریفیوجی کونسل کے سربراہ انور سلیمان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات لوگوں کو برطانیہ پہنچنے کی کوششوں سے 'باز نہیں رکھیں گے‘ اور انہوں نے پالیسی کے ازسرِنو جائزے پر زور ديا۔

 

 ان کا کہنا تھا، ''حکومت کو چاہیے کہ ایسے مہاجرين کے لیے راستہ ہموار کرے، جو محنت کرتے ہیں، برطانیہ کی معیشت میں حصہ ڈالتے ہیں اور یہاں پُرسکون اور مستقل زندگی گزار کر اپنی کمیونٹیز کے ليے کچھ کر سکيں۔‘‘

 

ايک سو سے زائد برطانوی فلاحی تنظیموں نے وزیر داخلہ محمود کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ ''مہاجرین کو قربانی کا بکرا بنانے اور محض دکھاوے کی پالیسیوں‘‘ کو ختم کریں جو نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات معاشرے میں نسل پرستی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C