غیر قانونی تارکین وطن معیشت اور سلامتی کیلئے خطرہ ہے، آرمی چیف عاصم منیر
👁️ 151 بار دیکھا گیا
غیر قانونی تارکین وطن معیشت اور سلامتی کیلئے خطرہ ہے، آرمی چیف عاصم منیر
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پہ مقیم غیر ملکی پاکستان کی سلامتی اور معیشت پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کئی مبصرین کے خیال میں یہ بیان حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
دورہ پشاور کے دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی طرف سے دیے گئے اس بیان کو کئی حلقے ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ مبصرین اور سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کا بیان، غیر قانونی طور پہ مقیم تارکین وطن، خصوصاﹰ افغان مہاجرین کو، قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے اور یہ کہ پاکستان کے سکیورٹی کے مسائل پاکستان کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔
آرمی چیف نے یہ بیان جمعرات 7 دسمبر کو پہلی نیشنل ورکشاپ خیبر پختونخوا ون کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ سید عاصم منیر کا کہنا تھا غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان غیر ملکیوں کو ایک مہذب اور باوقار طریقے سے ان کے ممالک واپس بھیجا جا رہا ہے، جو مروجہ روایات اور ضابطوں کے مطابق ہے۔
’پاکستان کی اندرونی سلامتی میں غفلت کا الزام غیر ملکیوں پہ نہیں ڈالا جا سکتا‘
تاہم سکیورٹی کے کئی ماہرین اور تجزیہ نگار آرمی چیف کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کے خیال میں پاکستان کی اندرونی سلامتی میں غفلت کا الزام غیر ملکیوں پہ نہیں ڈالا جا سکتا۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ڈاکٹر فیض اللہ جان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا الزام غیر ملکی تارکین وطن، خصوصاﹰ افغانوں پہ ڈالنا، انہیں قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے: ”یہ افغان دہائیوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اور ان میں سے اکثریت محنت مشقت کر کے اپنا گزارا کرتی ہے۔ پاکستان میں سلامتی کا مسئلہ خالصتاﹰ ایک اندرونی معاملہ ہے جس کے ذمہ داری یہاں کے حکمرانوں کو لینی چاہیے۔‘‘
معروف صحافی سمیع یوسف زئی کا کہنا ہے کہ یہ حیران کن بات ہے کہ ریاست سلامتی کے بحران کی ذمہ داری افغان مہاجرین پہ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس طرح کے بیانات ان لوگوں کے احتساب سے رخ موڑنے کے مترادف ہیں، جو سلامتی کے ذمہ دار ہیں۔ افغان مہاجرین کو افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں کنٹرول کرے۔‘‘
سمیع یوسف زئی کے مطابق افغان طالبان اپنے لوگوں کی افغانستان میں فکر نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں مہاجرین کی کوئی فکر ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پاکستان میں سلامتی کا مسئلہ اس کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ پاکستان نے افغان مجاہدین اور بعد میں افغان طالبان کی حمایت کی اور افغان طالبان پاکستانی طالبان کو اپنی ہی تحریک کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس پیچدہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان میں عسکریت پسندی بڑھی۔‘‘
اس صحافی کے مطابق پاکستان کے ذمہ داران اپنے نا اہلی کو چھپانے کے لیے یہ الزام افغان مہاجرین پہ ڈال رہے ہیں۔
دہشت گردی اور عسکریت پسندی پر کئی تحقیقی مقالے لکھنے والے عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ افغان مہاجرین میں سے کچھ تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی میں ملوث ہوں تاہم اس کا امکان بہت ہی کم ہے: ”یہ امکان اس لیے کم ہے کیونکہ ٹی ٹی پی کا پاکستان کے اندر بہت مضبوط نیٹ ورک ہے۔ ان کے سارے کے سارے رہنما باجوڑ، جنوبی اور شمالی وزیرستان اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ان کا بڑا مضبوط رابطہ پنجابی طالبان سے بھی رہا ہے، جنہوں نے ماضی میں جی ایچ کیو، مہران ایئر بیس اور کئی دوسرے مقامات پر حملے کیے۔‘‘
عرفان اشرف کے مطابق غیر ملکیوں میں القاعدہ سے وابستہ لوگوں نے بھی پاکستان میں حملے کیے ”لیکن القاعدہ کو بھی مقامی طور پر ٹی ٹی پی سپورٹ کر رہی تھی اور جب القاعدہ کے لوگ بھاگ کر یہاں آئے تو ٹی ٹی پی والوں نے ہی انہیں پناہ دی تھی۔‘‘
عرفان اشرف مزید کہتے ہیں، ”میرے خیال میں افغان مہاجرین کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اتنے بڑے حملوں میں ملوث ہوں۔ یہ کہنا کہ افغان مہاجرین کا پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ہاتھ ہے اس حقیقت کی نفی کرتا ہے کہ پاکستانی طالبان ملک کے اندر طاقتور ہیں۔‘‘
’بیان جزوی طور پر درست ہے‘
تا ہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ آرمی چیف کا بیان کسی حد تک صحیح ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار امتیاز عالم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف طالبان ہیں جو دہشت گردی میں ٹی ٹی پی اور داعش کے ذریعے ملوث ہیں اور ان کی حمایت یا سرپرستی تحریک طالبان افغانستان کر رہی ہے۔‘‘
امتیاز عالم کے مطابق تاہم افغانوں کی اکثریت معاشی تارکین وطن ہیں: ”اس کے علاوہ کئی افغان جیسے کہ فنکار، صحافی، لکھاری وغیرہ طالبان کے ظلم کا شکار ہیں اور ایسے افراد تو سیاسی پناہ ملنی چاہیے۔‘‘
دفاعی امور کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل نعیم لودھی کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ”زیادہ تر افغان مہاجرین انتہائی غریب ہیں اور بے روزگار ہیں تو کوئی بھی انہیں لالچ دے کر ایسی ایجنسیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے جو پاکستان دشمن ہوں یا ایسے عناصر بھی ان کو استعمال کر سکتے ہیں جو پاکستان میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کو چلتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے یا جنہیں پاکستان کے مفادات اچھے نہ لگتے ہوں۔‘‘
نعیم لودھی کے مطابق تاہم صرف یہی نہیں کہا جا سکتا کہ صرف افغان مہاجرین ہی اس کے ذمہ دار ہیں: ”ہمارے اپنے بھی کئی لوگ دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں اور ہم نے ان کو سزائیں بھی دی ہیں تو افغان مہاجرین ایک وجہ ہو سکتے ہیں لیکن مکمل وجہ نہیں ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان میں سکیورٹی آپریشنز، 19 دہشتگرد ہلاک، نائب صوبیدار بھی ہلاک
23/September/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
پزشکیان کا ٹرمپ کو جواب، ایران مذاکرات کیلئے تیار مگر دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا
23/September/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود پہلے سیکریٹری جنرل مقرر
23/September/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
ایک سال میں افغانستان پر پاکستان کے 15 فضائی حملے، 364 شہری ہلاک 346 زخمی ہوئے، افغان میڈیا
23/September/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی آپریشن، ٹی ٹی پی کمانڈر تراب محسود ہلاک
23/September/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ٹی ٹی پی کمانڈر امیر بادشاہ ہلاک
23/September/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26323 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15570 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11856 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9170 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7451 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5246 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C