05/February/2026

فرقہ واریت کا پرانا ہتھیار...! محمد عامر حسینی

👁️ 617 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
فرقہ واریت کا پرانا ہتھیار...!        محمد عامر حسینی

فرقہ واریت کا پرانا ہتھیار...! محمد عامر حسینی

پاکستان میں غیر منتخب ہئیتِ مقتدرہ (Establishment) جب بھی کسی سیاسی منصوبے کو عوامی ردعمل کی مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ ایک پرانا اور آزمودہ نسخہ آزما لیتی ہے: فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینا۔ 2026 کے سیاسی منظرنامے میں یہی نسخہ ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے، جس کے آثار دن بہ دن نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

2008 سے 2013 کے دوران، جب پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی حکومتیں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں برسراقتدار تھیں، اُس وقت کالعدم سپاہِ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) / اہلسنت والجماعت کو نئی شناختوں کے ساتھ دوبارہ فعال کیا گیا۔ یہ تنظیم نہ صرف دیوبندی عسکریت پسند نیٹ ورکس، جیسے لشکرِ جھنگوی، بلکہ القاعدہ برصغیر اور داعش سے جڑے گروہوں سے بھی منسلک پائی گئی۔

 

اس کے نتیجے میں ہزارہ، پشتون شیعہ، سرائیکی شیعہ اور دیگر اقلیتی شیعہ آبادیوں کو منظم ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پوری صورتِ حال میں مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) جیسے شیعہ پلیٹ فارم کو دھرنوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے دھرنوں میں ایم ڈبلیو ایم کا کردار خاص طور پر نمایاں رہا، جہاں مطالبہ کیا گیا کہ شہر کا انتظامی کنٹرول کور کمانڈر کوئٹہ کے سپرد کیا جائے۔

 

اسی دوران پنجاب میں بریلوی علماء، مزارات اور مذہبی مقامات پر حملے ہوئے۔ ایک تاثر منظم انداز میں فروغ دیا گیا کہ پنجاب حکومت اور مسلم لیگ (ن) ان حملہ آوروں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں صاحبزادہ فضل کریم نے مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کر کے سنی اتحاد کونسل کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں ان کے بیٹے صاحبزادہ حامد رضا اس تنظیم کے سربراہ بنے اور نواز شریف کے کھلے مخالف کے طور پر سامنے آئے۔

2013 سے 2018 کے دوران، جب غیر منتخب ہئیتِ مقتدرہ نے "پروجیکٹ عمران خان" کو آگے بڑھایا، تو شیعہ اور بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی کئی جماعتوں کو اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا۔ ان میں مجلس وحدت المسلمین، پاکستان عوامی تحریک (طاہر القادری)، تحریک لبیک پاکستان (خادم حسین رضوی) اور سنی اتحاد کونسل (حامد رضا) شامل تھیں۔

 

2018 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت بنی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ کچھ اتحادی اس سیٹ اپ سے علیحدہ ہو گئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کنارہ کشی اختیار کی، مگر راجا ناصر عباس اور حامد رضا اس بندوبست کا حصہ بنے رہے۔

 

2021 میں، جب جنرل باجوہ کی قیادت میں عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے نے "پروجیکٹ عمران خان" کو سمیٹنے کا فیصلہ کیا، تب بھی مجلس وحدت المسلمین اور سنی اتحاد کونسل کی قیادت فیض حمید دھڑے کے ساتھ کھڑی دکھائی دی۔

 

آج، 2026 میں، راجا ناصر عباس متحدہ اپوزیشن کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔ ان کی موجودگی اور فعال کردار عمران خان مخالف رجیم کے لیے ایک مزاحمت سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین کے نزدیک ایک بار پھر فرقہ واریت کو تیز کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

ملک بھر میں "دفاعِ صحابہ و اہلِ بیت کانفرنسز" کے عنوان سے اجتماعات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جن کی پہلی بڑی کانفرنس ملتان کے قاسم باغ اسٹیڈیم میں ہونے جا رہی ہے۔ اس مہم کے پیچھے کالعدم سپاہِ صحابہ پاکستان / اہلسنت والجماعت / سنی علماء کونسل کی قیادت سرگرم نظر آتی ہے۔

 

اسی تناظر میں، پروجیکٹ عمران خان کے سابق حامی فواد چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ایک "شیعہ شدت پسند نیٹ ورک" کام کر رہا ہے جو بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔ فواد چودھری کا یہ بیان ریاستی بیانیے میں ایک نئی سمت کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

 

دوسری جانب، کراچی میں سی ٹی ڈی نے گزشتہ تین ماہ کے دوران چار مرتبہ پریس کانفرنسیں کر کے ایسے نیٹ ورکس کے انکشافات کیے ہیں جو دیوبندی علماء اور کالعدم جماعتوں کے کارکنان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

 

کالعدم سپاہِ صحابہ کی قیادت نے راجا ناصر عباس کی بطور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر تقرری پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور احتجاجی تحریک کی دھمکی دی ہے۔

یہ تمام اشارے واضح کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ کارڈ کو ایک بار پھر استعمال میں لایا جا رہا ہے اور اس بار ہدف مجلس وحدت المسلمین ہو سکتی ہے۔ ماضی میں اسی طریقے سے تحریک لبیک پاکستان اور سنی اتحاد کونسل کو غیر مؤثر کیا گیا۔ حامد رضا کو جیل بھیجا جا چکا ہے، جبکہ تحریک لبیک کو آپریشنز کے ذریعے منتشر کیا گیا۔

 

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب "باری" مجلس وحدت المسلمین کی ہے، اور اسے "ٹھکانے لگانے" کے لیے ہتھیار وہی پرانا ہے:

فرقہ وارانہ تصادم۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C