16/November/2025

لیبیا: تارکینِ وطن کی دو کشتیاں الٹ گئیں، 95 افراد سوار، 4 ہلاک، درجنوں لاپتہ

👁️ 238 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لیبیا: تارکینِ وطن کی دو کشتیاں الٹ گئیں، 95 افراد سوار، 4 ہلاک، درجنوں لاپتہ

لیبیا: تارکینِ وطن کی دو کشتیاں الٹ گئیں، 95 افراد سوار، 4 ہلاک، درجنوں لاپتہ

نیو یارک (ڈیلی اردو رپورٹ) لیبیا کے ساحلی شہر الخمس کے نزدیک دو علیحدہ کشتی حادثات میں کم از کم چار تارکینِ وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز 95 غیرقانونی تارکینِ وطن کو لے جانے والی دو کشتیاں اچانک بلند لہروں کے باعث الٹ گئیں۔

 

حکام نے بتایا کہ ایک کشتی میں بنگلادیش کے 26 شہری سوار تھے، جن میں سے چار افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

 

دوسری کشتی میں 69 تارکینِ وطن موجود تھے جن میں دو مصری اور درجنوں سوڈانی شہری شامل تھے۔ 

 

حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم گہرے سمندر اور خراب موسم کے باعث ریسکیو میں مشکلات درپیش ہیں۔

 

اسی دوران اقوام متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی (آئی او ایم) نے گزشتہ ہفتے پیش آنے والے ایک اور سانحے کی تفصیلات جاری کی ہیں، جس میں لیبیا کے ساحل کے قریب تارکین وطن کو لے جانے والی ایک کشتی کے الٹنے کے بعد 42 افراد لاپتہ ہو گئے تھے جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

آئی او ایم کے مطابق سات افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ یہ ربڑ کی کشتی 47 مردوں اور دو خواتین کو لے کر تین نومبر کی صبح زوارہ سے روانہ ہوئی تھی، تاہم بلند لہروں کے دوران انجن فیل ہونے کے بعد چند گھنٹے میں الٹ گئی۔

 

بچ جانے والے افراد چھ دن تک سمندر میں پھنسے رہے اور انہیں ہفتے کے روز البوری آئل فیلڈ کے قریب ایک ریسکیو آپریشن کے دوران تلاش کیا گیا۔

 

لاپتہ افراد میں 29 سوڈانی، آٹھ صومالی، تین کیمرون کے اور دو نائجیریا کے شہری شامل ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے جنگ، غربت اور عدم استحکام کے سبب ہزاروں افراد یورپ پہنچنے کی کوشش میں لیبیا کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

 

سن 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے بعد سے لیبیا شدید انتشار اور لاقانونیت کا شکار ہے، جس کے باعث انسانی اسمگلروں کو سرگرمی کا وسیع موقع مل گیا ہے۔

 

گزشتہ ماہ بھی شمال مغربی الزاویہ کے قریب ایک لکڑی کی کشتی تیز لہروں کے باعث الٹ گئی تھی، جس میں 18 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 64 افراد کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔ ہلاک شدگان اور متاثرین میں سوڈان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے شہری شامل تھے۔

 

حکام اور عالمی اداروں نے ایک بار پھر لیبیا کے ساحل اور وسطی بحیرہ روم میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ مسلسل بڑھنے والے ان سانحات کو روکا جا سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C