لیبیا کے وزیرِاعظم عبدالحمید الدبیبہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے
👁️ 39 بار دیکھا گیا
لیبیا کے وزیرِاعظم عبدالحمید الدبیبہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے
طرابلس (ڈیلی اردو/روئٹرز/ڈی پی اے) لیبیا کے وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ جب گھر واپس لوٹ رہے تھے تو اس وقت ان کی گاڑی پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو وزیر اعظم مقرر کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ہونے والی ووٹنگ سے قبل پیش آیا ہے۔
لیبیا کے مقامی اور بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں کے مطابق، ملک کے وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ جمعرات کے روز علی الصبح ایک حملے میں اس وقت بال بال بچ گئے جب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ ان کی کار پر کئی گولیاں لگیں۔
ایک ایسے وقت جب ملک کو کنٹرول کرنے کے لیے لیبیا کے مشرقی خطے کی پارلیمان اور الدبیبہ کی قومی اتحاد پر مبنی حکومت کے درمیان شدید رسہ کشی جاری ہے، مبینہ طور پر حملے کا یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کی تفتیش کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ صبح صبح گھر لوٹ رہے تھے۔ واضح طور پر اس واقعے کو انہیں قتل کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
بڑھتا ہوا عدم استحکام
اگر اس بات کی حتمی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وزیر اعظم عبدالحمید کو قتل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تو اس سے لیبیا کا سیاسی بحران مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز مشرقی پارلیمنٹ میں ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو وزیر اعظم مقرر کرنے لیے جو ووٹ ڈالے جانے ہیں وہ اسے نظر انداز کر دیں گے۔
دریں اثنا مسلح دستوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران دارالحکومت طرابلس میں مزید جنگجوؤں اور جنگی ساز و سامان کو جمع کیا ہے۔ اس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ سیاسی کشمکش لڑائی کا باعث بن سکتی ہے۔
سن 2011 میں سابق رہنما معمر قذافی کے خلاف نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے بعد سے ہی لیبیا عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس وقت ملک
مشرق اور مغرب کے دو مختلف متحارب دھڑوں کے درمیان منقسم ہو کر رہ گیا ہے۔
مغربی ممالک کے حمایت یافتہ ایک سیاسی عمل کے ایک حصے کے طور پر اقوام متحدہ کی ثالثی کے بعد، مصراتہ شہر سے تعلق رکھنے والے ایک طاقتور تاجر عبدالحمید الدبیبہ کو گزشتہ برس فروری میں وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی قومی اتحاد حکومت کا بنیادی کام ملک کو قومی مفاہمت کی طرف رہنمائی اور انتخابات کی نگرانی کرنا تھا۔
گزشتہ دسمبر میں ہونے والے عام انتخابات منسوخ کر دیے گئے تھے اور مشرقی پارلیمان کا کہنا ہے کہ اس برس بھی انتخابات نہیں ہو پائیں گے۔
وزیر اعظم الدیبہ نے خود انتخابات میں حصہ نہ لینے کا عہد کیا تھا تاہم انہوں نے صدارتی انتخابات میں خود امیدوار ہونے کا اعلان کر کے اپنے عہد کو توڑ دیا، اس طرح اب وہ متحد کرنے کے بجائے منقسم کرنے والی شخصیت بن گئے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بدخشاں میں طالبان کے کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 140 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، 20 میزائل داغے جانے پر اردن کا بیان
09/September/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
امریکا کا 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملوں کی ویڈیوز بھی جاری
09/September/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں 48 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، اہم شاہراہوں پر آمدورفت بند
09/September/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
ایران : سیستان و بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن، 3 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 9 گرفتار
08/September/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26284 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15530 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11818 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9116 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7405 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5125 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C