15/January/2026

مظاہرین پر کریک ڈاؤن: امریکہ کا ایران کے اعلیٰ عہدیداروں پر نئی پابندیاں

👁️ 199 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مظاہرین پر کریک ڈاؤن: امریکہ کا ایران کے اعلیٰ عہدیداروں پر نئی پابندیاں

مظاہرین پر کریک ڈاؤن: امریکہ کا ایران کے اعلیٰ عہدیداروں پر نئی پابندیاں

واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے پی) امریکہ نے ایران کے پانچ اعلیٰ سرکاری اور سیکیورٹی اہلکاروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن پر ایرانی مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے دنیا بھر کے بینکوں میں رقوم منتقل کرنے کی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

 

امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری، پاسدارانِ انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ کمانڈرز شامل ہیں۔

 

جمعرات کو جاری ویڈیو پیغام میں امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایرانی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ ’’چوری شدہ فنڈز دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کیے جا رہے ہیں اور ہم آپ کی ہر سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

 

اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ ابھی بھی موقع ہے کہ ایرانی حکام تشدد سے باز آ جائیں۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح پیغام دیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں اور ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔

 

امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ محکمۂ خزانہ ایران کی ’’آمرانہ حکومت‘‘ کو نشانہ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔

امریکہ نے ان پابندیوں کے ساتھ ساتھ 18 مزید افراد اور کمپنیوں کو بھی فہرست میں شامل کیا ہے جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

 

امریکی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک غیر ملکی منڈیوں میں ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کر کے خفیہ بینکاری نظام کے ذریعے رقوم منتقل کرتا رہا ہے۔

 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور اداروں کے امریکہ میں موجود کسی بھی مالی اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے جبکہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا جائے گا۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہیں کیونکہ زیادہ تر افراد کے امریکی مالیاتی اداروں میں اثاثے موجود نہیں۔

 

امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کے مطابق نامزد افراد ایک ’’شیڈو بینکنگ نیٹ ورک‘‘ کے ذریعے ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم کی منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں۔ شیڈو بینکنگ ایسے مالیاتی نظام کو کہا جاتا ہے جو روایتی بینکاری قوانین سے باہر رہتے ہوئے کام کرتا ہے۔

 

ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی ایران پر جوہری پروگرام اور تیل کی برآمدات محدود کرنے کے لیے متعدد پابندیاں عائد کر چکی ہے اور واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ تہران پر دباؤ کی یہ پالیسی برقرار رہے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C