05/October/2026

مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کا اجلاس، حوثیوں سے سیاسی رابطے کی ایرانی پیشکش بھی زیرِ غور

👁️ 106 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کا اجلاس، حوثیوں سے سیاسی رابطے کی ایرانی پیشکش بھی زیرِ غور

مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کا اجلاس، حوثیوں سے سیاسی رابطے کی ایرانی پیشکش بھی زیرِ غور

ریاض(ڈیلی اردو) سعودی دارالحکومت ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، دفاعی تعاون اور یمن کے تنازع سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف سلجوق بیرقدار اوغلو شرکت کر رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود ہوں گے۔ اجلاس میں علاقائی حالات اور دفاعی اتحاد کو مزید منظم اور مؤثر بنانے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے بتایا گیا تھا کہ ایران نے یمن میں حوثی گروپ کے ساتھ سیاسی رابطے اور ثالثی میں کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی پیشکش بھی ریاض اجلاس میں زیر بحث آنے والے اہم معاملات میں شامل ہوگی۔

اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یمن میں صورتحال ایک مرتبہ پھر سنگین رخ اختیار کرچکی ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حوثی گروپ کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے ملک کے باقی حصوں میں ریاستی اداروں کی عملداری بحال کرنے اور حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے فوجی کارروائیوں کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے یمنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کو طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔

یمنی حکومت کے اس اعلان کو گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے بعد جنگ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں حوثی گروپ نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنے زیر اثر رقبے میں اضافہ کیا تھا۔

دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق ریاض اور سعودی عرب کے مشرقی علاقے خریص میں تیل کی تنصیبات کے خلاف الگ الگ کارروائیاں کی گئیں۔

حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے اور دونوں کارروائیوں میں مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق حملے سعودی قیادت میں اتحاد کی جانب سے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران کیے گئے تقریباً 50 فضائی اور میزائل حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔

حوثیوں کی جانب سے آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا دعویٰ نہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی گروپ نے سعودی شہر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس وقت سعودی حکام نے کہا تھا کہ طائف اور ینبع کی سمت سے آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا گیا، جبکہ آرامکو کی تنصیبات کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

یمن میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کے دعووں کے درمیان ریاض میں ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اجلاس خطے کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اجلاس میں ایران کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ سیاسی ثالثی کی پیشکش پر ممکنہ پیش رفت بھی سامنے آسکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C