04/August/2025

پاکستان میں افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی دوبارہ شروع، اقوام متحدہ کی شدید تشویش

👁️ 532 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میں افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی دوبارہ شروع، اقوام متحدہ کی شدید تشویش

پاکستان میں افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی دوبارہ شروع، اقوام متحدہ کی شدید تشویش

اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) پاکستانی حکام نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قیام کی مدت میں توسیع نہ دیے جانے کے بعد ملک بھر میں افغان مہاجرین کی جبری واپسی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

 

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں مقیم 14 لاکھ سے زائد افغان شہری ایسے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈز رکھتے ہیں جن کی قانونی حیثیت رواں سال جون کے اختتام پر ختم ہو چکی ہے۔ متاثرہ مہاجرین کو توقع تھی کہ انہیں جائیداد فروخت کرنے، کاروبار سمیٹنے یا بچوں کی تعلیم مکمل کرنے کے لیے قیام میں ایک سال کی توسیع دی جائے گی، تاہم حکومت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

 

کارروائیاں تیز، گرفتاریاں جاری

 

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں پی او آر کارڈ ہولڈرز اور افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کو غیر قانونی مہاجر قرار دے کر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ دو سیکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کو غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی شناخت اور سرحدی علاقوں تک منتقلی کا ہدف دیا گیا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ گھر گھر چھاپے یا بے ترتیب ناکوں کے ذریعے گرفتاریوں کا عمل جاری ہے، تاہم ابھی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی کوئی اطلاع نہیں۔

 

وفاقی نوٹیفکیشن کے تحت واپسی لازم

 

31 جولائی کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا تھا کہ تمام پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی قیام کی مدت ختم ہو چکی ہے، اور جن کے پاس درست سفری دستاویزات یا ویزہ نہیں، وہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایسے افراد کو امیگریشن قوانین کے تحت ملک چھوڑنا ہو گا۔

 

خیبر پختونخوا کے کمشنر برائے افغان مہاجرین شکیل خان نے اس حوالے سے بتایا، "جی ہاں، پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو عزت کے ساتھ واپس بھیجا جا رہا ہے۔" ان کے مطابق یہ کارروائی وفاقی حکومت کے احکامات کے تحت کی جا رہی ہے اور یہ اب تک کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔

 

ذاتی داستان: “یہاں پیدا ہوا، اب واپس جا رہا ہوں”

 

پشاور کے افغان مہاجر رحمت اللہ، جو 35 برس کے ہیں، نے بتایا کہ ان کا خاندان کئی دہائیاں قبل پاکستان آیا تھا۔ انہوں نے کہا، “میرے پانچ بچے ہیں اور میری فکر ہے کہ وہ اپنی تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔ میں یہاں پیدا ہوا، میرے بچے یہاں پیدا ہوئے اور اب ہم واپس جا رہے ہیں۔”

 

اقوام متحدہ کی تنقید اور تحفظات

 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے پاکستان کے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے ایک بیان میں کہا، “اس طرح لوگوں کو واپس بھیجنا غیر قانونی واپسی کے مترادف ہے اور یہ ریاست کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔”

 

انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان مہاجرین کی "رضاکارانہ، بتدریج اور عزت کے ساتھ" واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ تاہم ترجمان نے پاکستان کی چار دہائیوں پر محیط مہمان نوازی کو سراہا۔

 

یو این ایچ سی آر کے مطابق، رواں سال کے دوران ایران اور پاکستان سے مجموعی طور پر 12 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان کی نازک معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C