30/March/2026

پاکستان میں ایران جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات

👁️ 178 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میں ایران جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات

پاکستان میں ایران جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات

اسلام آباد (ڈیلی اردو/اے ایف پی/روئٹرز) پاکستان نے آج اتوار کے روز ترکی، مصر اور سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کی جو ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اس کی ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

 

تینوں علاقائی طاقتوں کے وزرائے خارجہ ان مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے۔ اس موقع پر ایران نے امریکہ کو زمینی حملے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

 

مذاکرات سے واقف پانچ ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان میں ملاقات کرنے والے ممالک نے واشنگٹن کو بحری ٹریفک اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تجاویز پیش کی ہیں، جو جہاز رانی کے بہاؤ کو مستحکم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔

 

آبنائے ہرمز پہلے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کے تقریباً 20 فیصد کا راستہ تھا، لیکن ایران نے ایک ماہ قبل شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں یہاں سے جہاز رانی کے بہاؤ کو مؤثر طریقے سے روک دیا ہے۔

ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجاویز

 

پاکستان نے، جو ترکی کی طرح ایران کا پڑوسی ہے، تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اس تنازعے میں ایک اہم سفارتی ذریعے کے طور پر ابھرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ انقرہ اور قاہرہ نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔

 

پاکستان کے ایک ذریعے نے بتایا کہ مصر سمیت دیگر تجاویز اتوار کے اجلاس سے قبل پاکستان کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو بھجوائی گئی تھیں اور ان میں نہر سویز کی طرز پر فیس وصولی کے نظام کا ڈھانچہ شامل تھا۔

 

دو دیگر پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل کے بہاؤ کے انتظام کے لیے ایک کنسورشیم بنا سکتے ہیں، اور انہوں نے پاکستان سے بھی اس میں شرکت کی درخواست کی ہے۔

 

ذرائع نے بتایا کہ منیجمنٹ کنسورشیم کی تجویز پر امریکہ اور ایران کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔ پہلے پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ ملک کے آرمی چیف عاصم منیر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مستقل رابطے میں رہے ہیں۔

 

مصر اور پاکستان کی وزارت خارجہ نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ سعودی حکومتی میڈیا آفس اور وائٹ ہاؤس نے بھی فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ترکی کے ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ انقرہ کی ترجیح جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے۔

 

قبل ازیں آج اتوار کے روز، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ترک اور مصری ہم منصبوں کے ساتھ الگ الگ ون آن ون ملاقاتیں کیں، جس میں دفتر خارجہ کے مطابق مکالمے اور مسلسل سفارتی روابط پر زور دیا گیا۔

 

ڈار نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران نے مزید 20 پاکستانی پرچم والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C