پشاور میں 82 سالہ احمدی شہری محبوب احمد کا قتل
👁️ 137 بار دیکھا گیا
پشاور میں 82 سالہ احمدی شہری محبوب احمد کا قتل
پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے شیخ محمدی میں نامعلوم افراد نے جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 82 سالہ شخص محبوب احمد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا ہے۔
بڈھ بیر تھانے کے ایس ایچ او اعجاز خان نے بذریعہ ٹیلیفون بی بی سی کو بتایا کہ بڈھ بیر کے علاقے ماشو خیل میں محبوب احمد کی بیٹیاں اور کئی رشتہ دار عرصہ دراز سے مقیم ہیں۔ ان کے مطابق محبوب احمد اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے وہ وہاں آئے تھے۔
ایس ایچ او اعجاز خان کے مطابق آج صبح 9-9:30 کے درمیان وہ ماشو خیل سے واپس پشاور جانے کے لیے جب بس سٹاپ پر انتظار کر رہے تھے، اسی دوران کسی نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔
پولیس کے مطابق محبوب احمد کی لاش کو خیبر میڈیکل کالج روانہ کر دیا گیا ہے اور پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے جہاں اس قتل کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔
یاد رہے گذشتہ ماہ پشاور میں احمدی پروفیسر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کا قتل کر دیا گیا جبکہ اگست میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کو بھی پشاور میں ہی قتل کیا گیا تھا۔
جماعت احمدیہ کے مطابق حالیہ دنوں میں مذہب کی بنیاد پر پشاور میں احمدیوں کو ہدف بنا کر حملہ کرنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے محبوب خان کے قتل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی عمر 82 سال تھی اور وہ پشاور کے نزدیک شیخ محمدی گاؤں کے رہائشی تھے لیکن کچھ عرصہ قبل پشاور میں رہائش اختیار کر چکے تھے۔
Another innocent Ahmadi, 82 year old Mahboob Ahmad Khan was fatally shot in Sheikh Mohammadi area of Peshawar today because of his faith.
Mahboob sahab was visiting his daughter when unknown assailants shot him at close range, that killed him at the spot. pic.twitter.com/ZjYiS8deUc— Saleem ud Din (@SaleemudDinAA) November 8, 2020
سلیم الدین نے بتایا کہ آج صبح جب وہ شیخ محمدی سے پشاور واپسی کے لیے خاناں بس سٹاپ پر کھڑے بس کا انتظار کر رہے تھے، اس موقع پر چند نامعلوم افراد نے انتہائی قریب سے انھیں گولی ماری جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پشاور میں رہنے والے ہر احمدی کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور محبوب احمد کو بھی تھا۔‘
سلیم الدین کے مطابق ’ان کے علم میں نہیں کہ کسی نے محبوب احمد کو براہِ راست کسی قسم کی کوئی دھمکی دی ہو‘ تاہم انھوں نے دعوی کیا کہ ’محبوب احمد کے مذہب کے علاوہ انھیں مارے جانے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ محبوب احمد ایک ایسی عمر میں تھے کہ ان کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا یا لین دین تھا ہی نہیں۔
سلیم الدین کا کہنا تھا چند مہینوں سے پشاور میں مسلسل احمدی کمیونٹی پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان نے دعوی کیا کہ پشاور کی عدالت میں توہین رسالت کے ملزم کے قتل کے بعد، ملزم کی سوشل میڈیا پر حوصلہ افزائی اور ان کے حق میں نکالی جانے والی ریلیوں کے بعد ان حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’جس شہر میں آپ ایک قاتل کو ہیرو بنا کر پیش کریں گے، اسے بہت بڑا کارنامہ سمجھتے ہوئے ان کے حق میں لاکھوں افراد ریلیاں نکالیں گے تو یقیناً دوسرے بھی اسی راستے پر چلنا چاہیں گے۔‘
یاد رہے 29 جولائی کو توہین رسالت کے الزام میں گرفتار ملزم طاہر احمد نسیم کو ملزم فیصل خالد نے سیشن جج کی عدالت میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سلیم الدین کا کہنا تھا کہ پولیس ہمیشہ یہی کہتی ہے کہ ’ہم تفتیش کر رہے ہیں یا ہم کریں گے، لیکن احمدیوں پر حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت سنجیدہ نہیں ہے، اگر وہ سنجیدگی سے کوئی کوشش کریں اور احمدیہ کمیونٹی کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرتوں پر قابو پائیں تو شاید کوئی فرق پڑے۔‘
پاکستان میں محبوب احمد کی ہلاکت کے حوالے سے جماعت احمدیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز ے مطابق ’احمدیوں کے خلاف مسلسل جاری منفی پراپیگنڈہ مہم کے نتیجے میں احمدی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔‘
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’پشاورمیں یکے بعد دیگرے احمدیوں پر منظم حملے جاری ہیں اور حکومت احمدیوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔‘
جماعت احمدیہ کے ترجمان نے محبوب خان صاحب کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو ’مذہبی منافرت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بالعموم اور پشاور میں بالخصوص عقیدے کے اختلاف کی بنا پر احمدیوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی زندگیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے احمدیوں میں عدم تحفظ کے احساس میں شدت پیدا ہو ئی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت احمدیوں کی جان و مال کی حفاظت سے عمداً بے توجہی کر رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز مہم میں شدت آگئی ہے ۔ نفرت انگیز مہم چلانے والوں سے مسلسل حکومتی چشم پوشی نے شر پسند عناصر کے حوصلوں کو مزید تقویت دی ہے ۔ احمدی وطن عزیز کے محب وطن شہری ہیں جن کے جان ومال کی حفاظت کی زمہ داری ریاست کی ہے۔‘
سلیم الدین کی جانب سے ریاستی اداروں سے احمدیوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک
23/July/2026 👁️ 479 بار دیکھا گیا
بلوچستان کے تین اضلاع سے سات افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد
23/July/2026 👁️ 489 بار دیکھا گیا
امریکہ نے سعودی عرب کو جوہری پروگرام شروع کرنے کی اجازت دے دی
23/July/2026 👁️ 452 بار دیکھا گیا
مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی بی ڈی ٹیم پر دھماکا، 3 اہلکار ہلاک، 4 زخمی
23/July/2026 👁️ 332 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 10 دہشت گرد ہلاک، 2 خواتین خودکش بمبار گرفتار
23/July/2026 👁️ 354 بار دیکھا گیا
حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکی، پاکستان نے سخت وارننگ جاری کر دی
23/July/2026 👁️ 913 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8971 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4839 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3714 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3584 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2572 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2326 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C