پوٹن کی دھمکی: 60 سال بعد جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ انتہا پر ہے، امریکی صدر
👁️ 22 بار دیکھا گیا
پوٹن کی دھمکی: 60 سال بعد جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ انتہا پر ہے، امریکی صدر
واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ جوہری ‘آرماگیڈان’ (حق و باطل کا معرکہ) کا خطرہ 1962 کے کیوبا کے میزائل بحران کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ جب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات کی تو وہ ‘مذاق نہیں’ کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ روسی صدر پوتن کے جنگ سے نکلنے کا راستہ ‘پتہ لگانے کی کوشش’ کر رہا ہے۔
امریکہ اور یورپی یونین نے پہلے ہی کہا ہے کہ صدر پوتن کی جوہری تباہی کی دھمکی کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
تاہم، ماسکو کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کے باوجود امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ کو ایسے کوئی آثار نظر نہیں آئے کہ روس فوری طور پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یوکرین، بشمول ان چار خطوں کو جو روس نے حال ہی میں غیر قانونی طور پر الحاق کیا تھا، روس کے زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرا رہا ہے۔
کئی مہینوں سے امریکی حکام خبردار کر رہے ہیں کہ اگر روس کو میدان جنگ میں دھچکا لگا تو وہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کا سہارا لے سکتا ہے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ جب روسی رہنما ٹیکٹیکل جوہری، حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ ‘مذاق نہیں’ کر رہے تھے – ‘کیونکہ ان کی فوج، آپ کہہ سکتے ہیں، نمایاں طور پر مایوس کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے’۔
مسٹر بائیڈن نے اپنی جماعت ڈیموکریٹس کے چند ساتھیوں کو بتایا کہ ‘کیوبا کے میزائل بحران کے بعد پہلی بار، ہمیں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا براہ راست خطرہ ہے، اگر حقیقت میں واقعات ایسے ہی ہوتے رہے جیسا کہ ہو رہے ہیں۔’
‘ہمیں کینیڈی اور کیوبا کے میزائل بحران کے بعد سے آرمیگاڈان (معرکہ خیر و شر) کے امکان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔’
کیوبا میزائل بحران کیا تھا؟
* اکتوبر 1962 میں 13 روزہ واقعہ نے اُس وقت کی دو اہم سپر پاورز – سوویت یونین اور امریکہ – کو تصادم کے راستے پر لا کھڑا کیا تھا جس کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں سے تباہی کے امکانات بڑھ گئے تھے۔
* یہ بحران اس وقت شروع ہوا تھا جب سوویت رہنما نکیتا خروشچیف نے ایک وعدہ توڑا اور کیوبا میں جوہری ہتھیار نصب کیے – جن کے نشانے پر واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک شہر آگئے تھے – جوہری ہتھیاروں کی یہ تعیناتی امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی۔
* مسٹر کینیڈی نے کیوبا پر ایک بھرپور حملے کے منصو بے پر غور کیا، لیکن عملی طور پر صرف بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کیا، اور پس پردہ سوویت یونین کو میزائلوں کو ختم کرنے اور انہیں واپس روس لے جانے پر مجبور کر دیا۔
ہمارے روس کے ایڈیٹر اسٹیو روزنبرگ نے نشاندہی کی کہ گزشتہ جمعہ کو ایک تقریر کے دوران روسی صدر پوتن نے کہا کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جاپان کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرکے ایک ‘نظیر’ قائم کی تھی – ایک ایسا تبصرہ جس پر مغربی حکومتوں کا دھیان نہیں گیا ہوگا۔
مسٹر پوٹن نے روسی سرزمین کی حفاظت کے لیے ہر ممکن طریقے استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
یہاں تک کہ جب مسٹر پوتن نے یوکرین کے چار علاقوں، لوہانسک، ڈونیٹسک، زپوریزہیا اور خرسن کو باضابطہ طور پر الحاق کرنے کے حتمی کاغذات پر دستخط کیے – کیئو کی افواج ان علاقوں کے اندر آگے بڑھنے کا دعویٰ کر رہی تھی۔
لاکھوں روسی مرد یوکرین میں لڑنے کے لیے تیار ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے روس سے فرار ہو رہے ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس سے قبل ماسکو کے جوہری خطرات کو ‘روسی حکام اور پروپیگنڈا کرنے والوں کا مستقل بیانیہ’ کہہ کر مسترد کر چکے ہیں۔
کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے پال سٹرونسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ روس کی ‘غیر مستحکم بیان بازی’ کا مقصد مغرب کو دھمکانا ہے۔
خود روس میں ماسکو کے جوہری خطرات کے خلاف کچھ منفی ردعمل بھی نظر آیا ہے۔ ملک کے مرکزی دھارے کے اخبار ‘نزاویسیمایا گیزیٹ’ (Nezavisimaya Gazeta) کے ایک اداریے میں ‘ایٹمی بٹن کے بارے میں بات کرنے’ کے لیے ‘سینئر روسی حکام’ پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
‘ایسی بات کے بارے میں سوچنے اور ایسے بیانات دینے سے بھی جوہری تصادم کے امکان کو ایک حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔’
روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ماسکو نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ہے کہ جوہری جنگ ‘کبھی نہیں چھیڑنی چاہیے’۔
مسٹر بائیڈن نے یہ تبصرہ اُس وقت کیا تھا جب وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی چندہ جمع کرنے کی تقریب کے سلسلے میں میڈیا مغل، روپرٹ مرڈوک کے بیٹے جیمز مرڈوک کے نیویارک کے گھر پر آئے ہوئے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 1 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ: امریکہ، ایران مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل، 60 روز میں حتمی معاہدے کیلئے روڈ میپ پر اتفاق
23/June/2026 👁️ 7 بار دیکھا گیا
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 132 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 173 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 189 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8847 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4603 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3298 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2469 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2120 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C