17/November/2025

چین کا تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر شدید احتجاج

👁️ 330 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
چین کا تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر شدید احتجاج

چین کا تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر شدید احتجاج

بیجنگ (ڈیلی اردو) چین نے تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی تازہ ڈیل پر واشنگٹن سے باضابطہ تحریری احتجاج کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بیجنگ اپنی قومی سالمیت اور علاقائی وحدت کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

 

پیر 17 نومبر کو بیجنگ سے جاری رپورٹس کے مطابق چینی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ اس نے امریکہ کو سخت لہجے میں احتجاجی نوٹ بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے تائیوان کے ساتھ 330 ملین ڈالر مالیت کے جنگی طیاروں اور دیگر فضائی پرزوں کی فروخت کے معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔

 

چینی وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق:“ہم امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تائیوان کو مسلح کرنے کے قابل اعتراض عمل سے فوراً باز آئے اور چین–امریکہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں سے گریز کرے۔”

 

ٹرمپ دور میں پہلا بڑا اسلحہ معاہدہ

 

یہ اسلحہ ڈیل ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ امریکی صدر بننے کے بعد تائیوان کے ساتھ طے پانے والا پہلا دفاعی معاہدہ ہے۔

امریکی حکام کے مطابق معاہدے میں جنگی طیاروں، ٹرانسپورٹ جہازوں اور دیگر فضائی پلیٹ فارمز کے پرزہ جات شامل ہیں۔

 

بیجنگ کی تشویش

 

چین تائیوان کو اپنا باغی صوبہ قرار دیتا ہے اور اس کی جانب سے مکمل آزادی کی کسی بھی کوشش کو بارہا "قابل قبول نہ ہونے" کا اعلان کر چکا ہے۔ بیجنگ کے مطابق امریکہ کی ایسی دفاعی ڈیلز تائیوان کی علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت دیتی ہیں، جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرتی ہیں۔

 

چینی وزارتِ دفاع نے کہا کہ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنا خطے میں جنگی ماحول کو ہوا دینا ہے، اور چین اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اگر چاہیں تو میں اس کی سنسنی خیز سرخیاں بھی بنا سکتا ہوں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C