چینی صدر کا فوج کو جنگ کیلئے تیار رہنے کا حکم
👁️ 56 بار دیکھا گیا
چینی صدر کا فوج کو جنگ کیلئے تیار رہنے کا حکم
بیجنگ + نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) چینی صدر شی جن پنگ کی طرف سے اپنی فوج کو تمام ممکنہ صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کے حکم کو بھارت اور چین کے درمیان فوجی ٹکراو کے بڑھتے خدشات کے مد نظرغیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر دفاع، قومی سلامتی کے مشیر اور تینوں افواج کے سربراہوں کے ساتھ موجودہ صورت حال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔
TIMES NOW accesses inside details of India’s diplomatic win.
PM @narendramodi’s ‘Doklam team’ is behind the victory.
NSA Doval live reported situation to PM & inputs were examined in multiple security meets.Vivek N & Madhavdas G with details. | #IndiaTamesChina pic.twitter.com/faQcqrS6aA
— TIMES NOW (@TimesNow) May 27, 2020
Army Commanders’ Conference has started with Army Chief General MM Naravane presiding over the conference. The top commanders of the Force are attending the meeting and all security issues including the Chinese aggression in Ladakh will come up for discussion during it. pic.twitter.com/iC98sG3NQV
— ANI (@ANI) May 27, 2020
صدر شی جن پنگ، جو 20 لاکھ ملکی افواج کے سربراہ بھی ہیں، نے چینی افواج کے اعلی افسران کے ایک وفد کوخطاب کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ جنگ کے لئے مضبوط تیاری شروع کردیں اور فوج سے کہا کہ وہ انتہائی بدترین، پیچیدہ اور پریشان کن حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے، ان سے فوراً اور موثر انداز میں نمٹنے کے لیے خود کو تیار رکھیں۔
چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدرشی جن پنگ نے یوں تو کسی مخصوص خطرے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بھارت کا نام لیا لیکن یہ بیان چونکہ ایک ایسے وقت آیا ہے جب حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے اس لیے اسے غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے لداخ اور شمالی سکم میں حقیقی کنٹرول لائن پربھارت اور چین نے اپنی اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔ پچھلے دنوں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ہاتھا پائی اور مارپیٹ کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔
غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں دونوں ملکوں کے تقریباً ایک سو جوان زخمی ہوچکے ہیں۔ چینی فوج کے ذریعہ بھارتی نیم فوجی دستے کے جوانوں کو حراست میں لینے کی خبریں بھی آئی تھیں لیکن بھارت نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔
بھارتی میڈیا نے سیٹلائٹ تصویروں کے ثبوت کے ساتھ دعوی کیا ہے کہ چین لداخ کے قریب ایک ایئر بیس کی توسیع کررہا ہے اور اس نے وہاں جنگی طیارے بھی تعینات کردیے ہیں۔
#NDTVExclusive: China expands airbase near Ladakh, fighter jets on tarmac https://t.co/g7S53mDKAM pic.twitter.com/MisbYUNFqP
— NDTV (@ndtv) May 26, 2020
ان حالات کے مدنظر وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل 26 مئی کو ایک اعلی سطحی میٹنگ کی۔ جس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور تینوں افواج کے سربراہوں نے وزیر اعظم مودی کو حقیقی کنٹرول لائن پر صورت حال کے حوالے سے بریف کیا۔
جنرل بپن راوت نے لداخ میں صورت حال کو سنبھالنے کے لیے فوجی مشوروں سے بھی وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا سے اور وزیر دفاع نے فوج کے تینوں سربراہوں کے ساتھ بھی الگ سے تبادلہ خیال کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہونے والی میٹنگ میں بنیادی طور پر یہ طے پایا کہ حقیقی کنٹرول لائن پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھارت باہمی احترام اور بات چیت کے میکنزم کو اپنانے کے حق میں ہے تاہم متعلقہ ذمہ داروں کو کسی بھی صورت حال کے لیے تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔
دریں اثنا دہلی میں آج آرمی کمانڈروں کی سشماہی میٹنگ شروع ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلی فوجی افسران کی اس تین روزہ کانفرنس میں بھارت اورچین کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی پر یقینی طور پر غور و خوض کیا جائے گا۔
مودی حکومت کے ایک سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ چین نے اپنے میڈیا کے ذریعہ بھارت پر نفسیاتی دباو ڈالنا شروع کردیا ہے اور اس حوالے سے بھارت کے ساتھ اسی علاقے میں 1962 میں ہونے والی جنگ کی یاد دلارہا ہے۔ بھارتی وزیر کا تاہم کہنا تھا ”یہ 1962 نہیں بلکہ 2020 ہے اور اس وقت ملک کی قیادت نریندر مودی کے ہاتھوں میں ہے۔”
پچھلے دنوں بھارت اور چین کی افواج کے درمیان ہاتھا پائی اور مارپیٹ کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔
دوسری طرف اپوزیشن کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ موجودہ صورت حال سے عوام کو آگاہ کرے۔ کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے کہا”حکومت بھارتی عوام کو بتائے کے سرحد پر آخر کیا ہورہا ہے؟ ہمیں مختلف طرح کی خبریں مل رہی ہیں۔ اس معاملے میں شفافیت ضروری ہے تاکہ عوام کو حقیقی صورت حال کا علم ہوسکے۔”
ادھر مسئلے کو حل کرنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ بھارت نے ‘ورکنگ میکانزم‘ کو سرگرم کردیا ہے۔ یہ میکانزم 2012 میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں قائم کیا گیا تھا اور اس پر بیجنگ میں اس وقت کے بھارتی سفیر او رموجودہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے دستخط کیے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے موجودہ بحران جلد ختم ہوجائے لیکن چونکہ حقیقی کنٹرول لائن پرمختلف مقامات کے سلسلے میں کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہے اس لیے مستقبل میں بھی اسی طرح کے جھگڑے اور بحران پیدا ہوتے رہیں گے لہذا اس تنازعہ کو جلد از جلد حل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
جنوبی کوریا: پانچ لاکھ ڈرون جنگجو تیار کیے جائیں گے
27/June/2026 👁️ 179 بار دیکھا گیا
یوکرین کا روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ
27/June/2026 👁️ 241 بار دیکھا گیا
اسرائیل اور لبنان میں امریکی ثالثی سے فریم ورک معاہدہ طے
27/June/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، دو حملہ آور ہلاک
27/June/2026 👁️ 231 بار دیکھا گیا
جنگ بندی کیخلاف ورزی: امریکہ کا ایران میں اہداف پر فضائی حملہ
27/June/2026 👁️ 200 بار دیکھا گیا
50 سال بعد اسرائیل نے اینتیبے آپریشن کے خفیہ راز بے نقاب کر دیے
27/June/2026 👁️ 120 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8861 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4636 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3313 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2482 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2240 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1928 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C