کراچی: 13 سالہ لڑکی کی مبینہ مذہب تبدیلی اور 45 سالہ مسلمان شخص سے شادی، مسیحی سراپا احتجاج
👁️ 154 بار دیکھا گیا
کراچی: 13 سالہ لڑکی کی مبینہ مذہب تبدیلی اور 45 سالہ مسلمان شخص سے شادی، مسیحی سراپا احتجاج
کراچی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) صوبہ سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں ایک تیرہ سالہ مسیحی لڑکی کے والدین کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی کا مذہب جبراً تبدیل کرایا گیا اور پھر اس کی شادی کرا دی گئی۔
13 years Catholic Christian girl Arzoo Raja was kidnapped on 13.10.2020 & forcibly converted & married to 46 years Ali azhar.Her parents appeal to prayer @Pontifex_it to her safe recovery.@acs_italia @ShahidMobeen1 @manutulli @ImranKhanPTI @AKaminara @csjpak. pic.twitter.com/IJIRPLbbJ0
— Tabassum Yousaf (@tabassumhamid) October 20, 2020
ماہرین پوچھ رہے ہیں کہ قانونی ممانعت کے باوجود ایسے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں؟
پریشان حال اور وسوسوں کی شکار ریٹا کراچی کی ایک عدالت میں مجسٹریٹ کے کمرے کے باہر کھڑی اس انتظار میں تھیں کہ پولیس ان کی تیرہ سالہ بیٹی آرزو راجا کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے، تو وہ اپنی بیٹی کو ایک نظر دیکھ تو سکیں۔ رواں ماہ کی تیرہ تاریخ کو ریٹا اپنے شوہر کے ہمراہ نوکری کے لیے گھر سے نکلی تھیں، تو گھر میں اپنی تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کو چھوڑ کر گئی تھیں۔ دن میں کسی وقت ان کی سب سے چھوٹی بیٹی آرزو کسی کام سے گھر سے باہر نکلی اور پھر واپس نہ آئی۔ پانچ دن تک اسے ڈھونڈنے کی سر توڑ کوششوں کے بعد کچھ لوگوں سے معلوم ہوا کہ ان کا 45 سالہ پڑوسی اظہر علی، ان کی بیٹی کا مبينہ طور پر نہ صرف مسیحی مذہب تبدیل کرا چکا ہے بلکہ اس نے آرزو سے شادی بھی کر لی ہے۔
سول سوسائٹی کے ارکان کے تعاون سے آرزو کے والدین کئی دنوں کی تگ و دو کے بعد پولیس کے پاس مقدمہ درج کرانے اور اس کیس کو عدالت تک لانے میں کامیاب ہو گئے۔ اب وہ منتظر ہیں کہ انہیں ان کی بیٹی واپس مل جائے۔
دوسری جانب اظہر علی اور ان کے اہل خانہ سے جب اس بارے میں ان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی، تو ان کی جانب سے کوئی تعاون نہ کیا گیا۔
آرزو راجا کا کیس ملک میں ایسا پہلا کیس نہیں، جس میں کسی مذہبی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے والدین اپنی بیٹی کی مبینہ جبری تبدیلی مذہب اور شادی کے معاملے کو لے کر انصاف کے متمنی ہیں۔
ایک غیر سرکاری تنظیم قومی کمیشن برائے امن و انصاف اور پاکستان ہندو کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2019 میں تقریباً ایک ہزار ہندو اور مسیحی لڑکیوں کا نہ صرف جبراﹰ مذہب تبدیل کرايا گیا بلکہ ان کی جبری شادیاں بھی کرا دی گئیں۔
پاکستان میں مذہب کی جبری تبدیلی اور جبری شادیوں کے کیسز میں انصاف کی فراہمی آسان نہیں۔ آرزو راجا کے کیس کو عدالت تک لے جانے میں تعاون کرنے والی خاتون پاسٹر غزالہ شفیق کے مطابق جب مذہب کی جبری تبدیلی اور بچیوں کی جبری شادی کا کیس عدالت تک پہنچتا ہے، تو انتظامیہ حرکت میں آتی ہے۔
انہوں نے بتایا، ”ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب ملک میں قانون موجود ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کی کسی لڑکی کی شادی نہیں ہو سکتی، تو یہ کون سے مولوی ہیں، جو کم عمر بچیوں کے نکاح پڑھا رہے ہیں۔ وہ بھی ایسی بچیوں کے، جن کے اس وقت نہ توکوئی سرپرست ساتھ ہوتے ہیں اور نہ ان بچیوں کا کوئی شناختی کارڈ تک بنا ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ قانون موجود نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے اس قانون پر عمل درآمد کے لیے حکومت، عدلیہ اور پولیس کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ تب ہی جبری تبدیلی مذہب اور ایسی جبری شادیوں کی روک تھام ہو سکے گی۔‘‘
پاکستان میں اقلیتی رائٹس کمیشن سندھ کی صدر سفینہ جاوید کے مطابق اگر سندھ کی بات کی جائے تو سکھر، گھوٹکی ،خیر پور، تھرپارکر، میرپور خاص اور عمر کوٹ کے علاوہ اندرون سندھ کے بعض دیہات میں ايسے کئی واقعات دیکھنے میں آتے ہیں، ”یہ واقعات اب اتنی تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ شہری اور دیہی علاقوں میں فرق اب ختم ہو رہا ہے۔ پھر حکومت کی طرف سے جبری تبدیلی مذہب پر عموماً زیادہ مدد نہیں ملتی۔ کچھ کیسوں میں تو ان کا تعاون تک بھی نظر آتا ہے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ حکومت کا جھکاؤ مدرسوں کی جانب ہوتا ہے یا ان افراد کی جانب، جنہوں نے ایسی کسی بچی کا جبراﹰ مذہب تبدیل کرایا ہوتا ہے۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ ان بچیوں کو اور ان کے والدین کو انصاف مل سکے۔‘‘
سن دو ہزار 2014 میں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے حکم دیا تھا کہ ایک قومی اقلیتی کمیشن کا قیام جلد از جلد کیا جائے۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے اس سال پانچ مئی کو یہ قومی اقلیتی کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن کے تحت رکن قومی اسمبلی نوید عامر جیوا، آرزو راجا کے کیس میں حکومت کی جانب سے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔
ان کے مطابق اقلیتی کمیشن اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ جلد از جلد قانون میں ایسی ترامیم پر اتفاق کیا جائے جن سے متاثرہ بچیوں کو بہتر انداز میں انصاف مل سکے۔
آرزو راجا کی بازیابی کے لیے ایف آئی آر کاٹتے وقت باوجود اس بات کے کہ اغوا شدہ لڑکی کی عمر صرف تیرہ سال ہے اور اس پر چائلڈ پروٹیکشن کے قانون کی شق لاگو ہوتی ہے، پولیس کی جانب سے اس پہلو کا کوئی اندراج نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے پہلوؤں کے تناظر میں ہی جبری تبدیلی مذہب کے حوالے سے جو کمیشن بنایا گیا ہے، اس میں سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کے مابین اس بات پر مشاورت ہو رہی ہے کہ جلد سے جلد ايسی قانون سازی کی جائے جس میں پولیس کی جانب سے مقدمات کے اندراج کے وقت اس شق کے تذکرے کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ مجرموں کو قرار واقعی سزائین سنائی جا سکیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک
23/July/2026 👁️ 479 بار دیکھا گیا
بلوچستان کے تین اضلاع سے سات افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد
23/July/2026 👁️ 489 بار دیکھا گیا
امریکہ نے سعودی عرب کو جوہری پروگرام شروع کرنے کی اجازت دے دی
23/July/2026 👁️ 452 بار دیکھا گیا
مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی بی ڈی ٹیم پر دھماکا، 3 اہلکار ہلاک، 4 زخمی
23/July/2026 👁️ 332 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 10 دہشت گرد ہلاک، 2 خواتین خودکش بمبار گرفتار
23/July/2026 👁️ 354 بار دیکھا گیا
حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکی، پاکستان نے سخت وارننگ جاری کر دی
23/July/2026 👁️ 913 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8971 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4839 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3714 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3584 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2572 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2326 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C