کوئٹہ: آرمی چیف عاصم منیر کی افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں پر تشویش
👁️ 22 بار دیکھا گیا
کوئٹہ: آرمی چیف عاصم منیر کی افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں پر تشویش
راولپنڈی (ڈیلی اردو) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے ژوب میں دہشت گردی کے حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی سی ایم ایچ کوئٹہ میں عیادت کی اور پاک فوج کے بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کو کارروائیوں کے لیے دستیاب مواقع پر تشویش ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا جہاں انہیں ژوب میں دہشت گروں کے حملے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور سی ایم ایچ کوئٹہ میں داخل زخمیوں کی عیادت کی اور قوم کے لیے ان کی خدمات اور ان کے عزم کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کارروائیوں کے لیے آزادی اور محفوظ مقامات کی دستیابی پر انتہائی تشویش ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’افغانستان کی عبوری حکومت سے توقع تھی کہ وہ حقیقی معنوں اور دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی روشنی میں کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردوں کی سہولت کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گی‘۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا ایک اور تشویش ہے، جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے‘۔
دہشت گردی کی کارروائیوں کے حوالے سے کہا گیا کہ ’اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں جن پر پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے مؤثر جواب دیا جائے گا‘۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور مسلح افواج اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک ملک سے دہشت گردی کا ناسور مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کوئٹہ گریژن پہنچنے پر کور کمانڈر کوئٹہ نے چیف آف آرمی اسٹاف کا استقبال کیا۔
خیال رہے کہ دو روز قبل بلوچستان کے علاقے ژوب میں واقع گیریژن میں دہشت گردوں کے حملے میں 9 فوجی جوان ہلاک اور جوابی کارروائی میں 5 دہشت مارے گئے تھے۔
آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا تھا کہ بلوچستان کے علاقے ژوب کینٹ میں علی الصبح دہشت گردوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا اور تنصیب میں گھسنے کی کوشش کی جنہیں ڈیوٹی پر موجود جوانوں نے روکا اور فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دہشت گرد چھوٹی جگہ پر محدود ہوگئے۔
کلیئرنس آپریشن کی تکمیل کے بعد جاری بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ حملے میں زخمی ہونے والے مزید 5 جوان بھی ہلاک ہوگئے اور تعداد 9 ہوگئی جبکہ اس دوران 5 دہشت گرد بھی مارے گئے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے گزشتہ سال نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے پاکستان میں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سے قبل 2 جولائی 2023 کو بلوچستان کے ضلع شیرانی کے علاقے دھانہ سر میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کا ایک اور پولیس کے 3 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے افغان حکام پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔
افغانستان سے قبائلی ضلع کرم کے شیعہ اکثریتی علاقے پاراچنار پر میزائل فائر ہونا تشویشناک ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدے اور ذمہ داریاں پوری کرے اور یہ یقینی بنانا افغانستان کی ذمہ داری ہے کہ اس کی زمین پاکستان نے خلاف استعمال نہ ہو۔افغانستان سے کرم پر میزائل فائر ہونا ایک مقامی مسئلہ ہے، اسکو مقامی انتطامیہ دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ یقینی بنانا ان (افغان حکام) کی ذمہ داری ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور افغان حکام نے مختلف مواقع پر یہ ذمہ داری قبول کی ہے۔
رواں برس اپریل میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی آج بھی پاکستان پر بالخصوص خیبر پختونخوا میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان قیادت کے ساتھ اسلام اباد کے اچھے تعلقات ہیں لیکن وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان پر حملوں میں اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری نے فروری میں بیان میں کہا تھا کہ کوئی ملک ہمارا دوست نہیں رہ سکتا جو کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلقات رکھے گا، افسوس کی بات ہے کہ کچھ پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں موجود عبوری حکومت کو اس طرح کی تنظیموں کو اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اس کی سرزمین استعمال کرکے اس طرح کی سرگرمیاں انجام دیں، اسے چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان کے خلاف کارروائی کرے، جب تک ہمسایہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی پاکستان میں سیکیورٹی رسک رہے گا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان: حزب اللہ کے حملے میں اسرائیلی پلاٹون کمانڈر ہلاک
29/June/2026 👁️ 1 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں ڈرون حملہ، 9 سالہ بچہ ہلاک، خاتون زخمی
29/June/2026 👁️ 6 بار دیکھا گیا
اسرائیلی فوج کا جنوبی شام میں آپریشن، متعدد ’مسلح شدت پسند‘ ہلاک
29/June/2026 👁️ 9 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں فائرنگ، حملے اور دھماکہ، معروف تاجر سمیت 3 افراد ہلاک
28/June/2026 👁️ 173 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، امریکہ کے ایران پر دوسرے روز بھی فضائی حملے
28/June/2026 👁️ 153 بار دیکھا گیا
کراچی میں رینجرز کمپاؤنڈ پر خودکش حملہ، 10 افراد ہلاک، متعدد زخمی
28/June/2026 👁️ 187 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8864 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4642 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3393 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2483 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2242 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1930 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C