18/January/2026

’کچھ ہلاکتیں انسانیت سوز تھیں‘، خامنہ ای کا ایران میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا اعتراف

👁️ 266 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
’کچھ ہلاکتیں انسانیت سوز تھیں‘، خامنہ ای کا ایران میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا اعتراف

’کچھ ہلاکتیں انسانیت سوز تھیں‘، خامنہ ای کا ایران میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا اعتراف

تہران/واشنگٹن (ڈیلی اردو) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار امریکا کو قرار دے دیا ہے۔

 

ہفتے کے روز اپنے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے، جبکہ بعض ہلاکتیں ’’انسانیت سوز اور ظالمانہ انداز‘‘ میں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے پیچھے امریکا اور اسرائیل سے وابستہ عناصر کا کردار ہے۔

 

ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والی امریکا میں قائم ایرانی انسانی حقوق کارکنوں کی نیوز ایجنسی ایچ آر اے این اے (HRANA) کے مطابق بدامنی کے دوران کم از کم 3090 افراد ہلاک ہوئے، تاہم انسانی حقوق کے بعض کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنا انتہائی مشکل رہا۔

 

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’’امریکا اور اسرائیل سے وابستہ افراد کی وجہ سے ملک کو شدید نقصان پہنچا اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘

 

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ان ہلاکتوں، نقصان اور ایرانی قوم کی رسوائی کا ذمہ دار امریکی صدر کو سمجھتے ہیں۔‘‘

 

واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ برس 28 دسمبر کو معاشی بدحالی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، جو دو ہفتوں سے زائد عرصے تک جاری رہے اور ان کے دوران تشدد کے واقعات سامنے آئے۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی فارسی اور بی بی سی ویریفائی نے ایسی متعدد ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں ایرانی سکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

جنوب مغربی ایران کے شہر شیراز کی ایک خاتون نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز اب بھی موٹر سائیکلوں پر گشت کر رہی ہیں، تاہم مجموعی طور پر صورتحال معمول پر آ چکی ہے۔

 

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایرانی مظاہرین سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو نشانہ بنایا تو امریکا فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

 

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ ’’امریکا کا مقصد ایران کو نگلنا ہے۔‘‘

تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال سپریم لیڈر کے اس بیان پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔ بی بی سی نے اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

 

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ اسے ایسی اطلاعات ملی ہیں جن کے مطابق ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ محکمہ خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایسا کوئی حملہ ہوا تو امریکا کی جانب سے ’’انتہائی طاقتور‘‘ ردِعمل دیا جائے گا اور تہران ’’صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلے۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C