06/June/2026

یوکرینی ڈرون حملوں میں روسی قبضے والے علاقوں میں 5 افراد ہلاک

👁️ 351 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یوکرینی ڈرون حملوں میں روسی قبضے والے علاقوں میں 5 افراد ہلاک

یوکرینی ڈرون حملوں میں روسی قبضے والے علاقوں میں 5 افراد ہلاک

کییف/ماسکو/باکو (ڈیلی اردو) یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ آزوف اور روس کے زیرِ قبضہ ساحلی علاقوں میں ’غیر قانونی کارگو لے جانے والے‘ پانچ جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایک نیول ڈرون کے رومانیہ کے ساحل کے قریب دھماکے کی بھی تصدیق کی ہے۔

 

یوکرین کی ڈرون فورسز کے کمانڈر نے کہا کہ نشانہ بنائے گئے جہاز مبینہ طور پر یوکرینی اناج کی ’چوری‘، اور فوجی سامان و ایندھن کی ترسیل میں ملوث تھے۔ ان کے مطابق ان جہازوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے نام مٹا دیے تھے اور ریڈار بند کر رکھے تھے۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوتن سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک اہم معاشی فورم سے خطاب کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے پوتن کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔

 

دوسری جانب یوکرین نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کو اس کا ایک نیول ڈرون رومانیہ کے ساحل کے قریب پھٹ گیا۔ رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق ڈرون نے خود کو ایک آئل ٹرمینل کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ایک جہاز اور گوداموں کو نقصان پہنچا۔

 

ادھر آذربائیجان نے کہا ہے کہ بحیرۂ آزوف میں دو کارگو جہازوں پر ڈرون حملوں میں پانچ شہری ہلاک ہوئے، تاہم اس نے حملہ آور کی نشاندہی نہیں کی۔ روس نے ان حملوں کا الزام یوکرین پر عائد کیا ہے، جبکہ کئیو نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

 

زمینی صورتحال میں بھی شدت برقرار ہے۔ یوکرین کے مختلف علاقوں میں روسی حملوں کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 13 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ کئیو کے نواح میں ایک ڈیری فیکٹری پر ڈرون حملے میں چار افراد مارے گئے، جبکہ خیرسون، خارکیف، سومی اور دیگر علاقوں سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

 

صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملوں میں خوراک کے گودام، ایک ڈاکخانہ اور ایک سکول بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک کھلے خط میں پوتن سے براہِ راست ملاقات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ’براہِ راست رابطہ ناگزیر‘ ہے، تاہم روسی صدر نے فوری جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

 

کریملن کا کہنا ہے کہ اسے زیلنسکی کا خط موصول ہو گیا ہے اور ممکن ہے کہ پوتن اس پر ردعمل دیں۔ تاہم پوتن نے یوکرینی قیادت کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا ہے، جبکہ روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو چار مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہونا اور نیٹو میں شمولیت کی خواہش ترک کرنا ہو گی، جسے کئیو مسترد کر چکا ہے۔

 

یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور جنیوا، استنبول اور دیگر شہروں میں ہونے والے مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C