17/October/2026

آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے، ایران کی ناکہ بندی برقرار ہے، امریکی فوج کا دعویٰ

👁️ 65 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے، ایران کی ناکہ بندی برقرار ہے، امریکی فوج کا دعویٰ

آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے، ایران کی ناکہ بندی برقرار ہے، امریکی فوج کا دعویٰ

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جاری ہے اور گزشتہ سات روز کے دوران تقریباً 400 تجارتی جہاز اس گزرگاہ سے گزرے۔ ان کے مطابق ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی بدستور نافذ ہے، جس کے باعث ایرانی سمندری تجارت متاثر ہوئی ہے۔

اسکائی نیوز عربیہ کے مطابق بریڈ کوپر نے جمعے کو جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکا اور اس کے علاقائی شراکت دار آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اسی مدت میں شراکت داروں کو ایک کروڑ نہیں بلکہ 10 کروڑ بیرل سے زیادہ خام تیل کی ترسیل میں بھی مدد فراہم کی گئی۔

امریکی فوجی سربراہ کے مطابق امریکی افواج اتحادیوں اور بحری جہاز رانی کے شعبے کے ساتھ مل کر تجارتی جہازوں کی حفاظت، سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی اور حملوں کی روک تھام کے اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ بین الاقوامی بحری تنظیم کے مطابق فروری سے اب تک جہاز رانی پر مبینہ ایرانی حملوں میں 20 سے زائد شہری ملاح ہلاک ہوچکے ہیں۔

کوپر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران کم از کم 25 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل برآمد نہیں کرسکا، جبکہ امریکی اداروں کی معاونت سے تقریباً 35 کروڑ ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے منجمد کیے گئے۔ ان کے مطابق ایران کی سمندری درآمدات اور برآمدات رک چکی ہیں، تاہم اجازت یافتہ انسانی امداد کو استثنا حاصل ہے۔

امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان مالی پابندیوں اور فوجی کارروائیوں نے ایرانی سکیورٹی اداروں اور پاسدارانِ انقلاب کی مالی صلاحیت کو متاثر کیا ہے، جس سے ایران کے لیے اپنے اتحادی مسلح گروہوں کی معاونت اور تباہ ہونے والے ہتھیاروں و تنصیبات کی جگہ نئے وسائل فراہم کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے مختلف شعبوں میں تنخواہوں اور مراعات کی ادائیگی متاثر ہوئی ہے۔

بریڈ کوپر کے مطابق چند ماہ قبل جاری رہنے والی 38 روزہ امریکی فوجی مہم میں ایران کی بیرونِ ملک کارروائیوں کی صلاحیت، بحری قوت، اسلحہ ساز فیکٹریوں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بحری راستوں کے تحفظ اور حملوں کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول، ایرانی حملوں اور ناکہ بندی کے اثرات سے متعلق یہ تفصیلات امریکی فوجی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں؛ ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C