08/August/2025

اسرائیلی کابینہ میں غزہ پٹی پر مکمل قبضے کا منصوبہ منظور، عالمی سطح پر شدید ردعمل

👁️ 375 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیلی کابینہ میں غزہ پٹی پر مکمل قبضے کا منصوبہ منظور، عالمی سطح پر شدید ردعمل

اسرائیلی کابینہ میں غزہ پٹی پر مکمل قبضے کا منصوبہ منظور، عالمی سطح پر شدید ردعمل

یروشلم (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں )  اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ پٹی پر مکمل فوجی کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کی اقوام متحدہ اور کئی ممالک نے سخت مخالفت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق یہ فیصلہ آٹھ اگست جمعے کی صبح کیا گیا، جو 22 ماہ سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائی میں ایک اور بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

 نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگی علاقوں سے باہر شہری آبادی کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی جائے گی۔ اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق سکیورٹی کابینہ کے ارکان کی اکثریت نے جنگ ختم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پانچ شرائط کی حمایت کی ہے:

 

1۔ حماس کو غیر مسلح کرنا

2۔ باقی ماندہ 50 یرغمالیوں کی واپسی، جن میں سے 20 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

3۔ غزہ پٹی کی مکمل غیر فوجی حیثیت

4۔ غزہ پٹی پر اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول

5۔ ایسی متبادل سول حکومت کا قیام، جو نہ حماس کی ہو اور نہ فلسطینی اتھارٹی کی

 

عالمی ردعمل 

 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے اس منصوبے کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے کے منافی ہے، جس میں اسرائیل سے قبضہ ختم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے دو ریاستی حل اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے فلسطینی مسلح گروپوں سے تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی اور اسرائیل سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

 

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن نے اپنے پیغام میں اسرائیل سے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی آپریشن کو وسیع کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

 

انھوں نے یہ پیغام سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا اور کہا ہے کہ مغوی جو اس وقت ناموافق حالات میں قید ہیں، کی رہائی ضروری ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ میں فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے جسے پہنچایا جانا چاہیے۔

انھوں نے غزہ میں فوری طور پر سیز فائر کا مطالبہ بھی کیا۔

 

چین کی وزات خارجہ نے غزہ شہر پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی منظوری کے بعد اپنے ردعمل میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

چین کا کہنا ہے کہ غزہ فلسطینی عوام کا ہے۔

 

دوسری جانب ڈچ وزیر خارجہ کاسپر ویلڈکمپ نے اپنے بیان میں اسرائیلی حکومت کے غزہ میں آپریشنز کو تیز کرنے کے منصوبوں پر کہا ہے کہ یہ ایک غلط قدم ہے اور اس سے مغویوں کو گھر لانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ ’

 

ادھر ڈنمارک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی آپریشن مزید تیز کرنے کے فیصلے کو واپس لے لینا چاہیے۔

 

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اسے ’’غلط‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خونریزی بڑھے گی اور جنگ ختم نہیں ہو گی۔ انہوں نے فوری جنگ بندی، انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافے، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور مذاکراتی حل پر زور دیا۔

 

آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے خبردار کیا کہ غزہ پٹی پر فوجی قبضہ وہاں انسانی المیے کو مزید سنگین کر دے گا اور ایسا کرنا بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔

 

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے کی مذمت کرتا ہے۔

 

غزہ پر قبضے کے لیے اسرائیلی کابینہ کے منصوبے کی منظوری کے بعد اپنے ردعمل میں سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے فسطینی عوام کے خلاف بھوک اور سفاکیت پر مبنی اقدامات اور نسل کشی کی مذمت کرتا ہے۔

 

دوسری جانب بیلجیئیم نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔

 

پرتگال کی جانب سے کہا ہے وہ غزہ پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کے حوالے سے بہت زیادہ تشویش کا شکار ہے۔

 

پرتگال کا مزید کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی کے لیے اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مزید کمزور کرے گا۔

 

ادھر اردن کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی منصوبے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اسرائیلی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے جس میں وہ فلسطینی عوام کے خلاف بھوک اور محاصرے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

 

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’’تا حکم ثانی‘‘ ایسے کسی بھی فوجی ساز و سامان کی برآمد کی اجازت نہیں دے گا، جو غزہ کی جنگ میں استعمال ہو سکتا ہو۔ جرمنی، جو کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بہت قریبی اتحادی ہے، نے یہ فیصلہ ایسے وقت پر کیا ہے، جب اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ سٹی پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

 

سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل میں دہشت گردانہ حملے میں بارہ سو سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اب تک غزہ پٹی میں 60 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کے مطابق اس تباہ شدہ فلسطینی علاقے میں اب بھی 50 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے 20 غالباﹰ اب تک زندہ ہیں۔

 

اقوام متحدہ اور کئی ممالک غزہ پٹی پر مکمل فوجی قبضے کے اسرائیلی منصوبے کو دو ریاستی حل اور خطے میں قیام امن کی کوششوں کے لیے تباہ کن قرار دے چکے ہیں۔

 

ترکی نے اس منصوبے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو فوراً اپنا جنگی منصوبہ ترک کر کے جنگ بندی اور دو ریاستی حل پر مذاکرات شروع کرنا چاہییں۔ ترک وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

 

اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین نے حکومتی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ پٹی میں جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کے فیصلے کو یرغمالیوں کے لیے ’’موت کا پروانہ‘‘ قرار دیا ہے۔ حماس کی قید میں یرغمالیوں کے لواحقین کے فورم نے جمعے کے روز کہا کہ اسرائیلی سیاسی قیادت کا یہ فیصلہ یرغمالیوں کو سرکاری طور پر ترک کر دینے کے مترادف ہے، جبکہ اس سے وہ اور اسرائیلی فوجی ’’ایک بڑے المیے‘‘ کا شکار ہو جائیں گے۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق غزہ پٹی میں اب بھی 50 یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے 20 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ غزہ پٹی کی یہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی تھی، جب فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروپوں نے اسرائیل میں ایک دہشت گردانہ حملہ کر کے 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور وہ  تقریباً 250 کو اغوا کر کے غزہ لے گئے تھے۔

 

غزہ پٹی کی حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں اب تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں عام شہری اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کیا گیا، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ادارے اور تنظیمیں انہیں معتبر قرار دیتے ہیں۔

 

حماس نے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے اور اس کے مکینوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے منصوبے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ دس لاکھ فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرم ہے۔

 

اپنے ایک پیغام میں حماس نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ ان کی حکومت جنگ کو وسعت دے کر اسرائیلی مغویوں کو نظر اندار کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

 

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام اس کی جانب سے حال ہی میں سیز فائر کے لیے کیے جانے والے مذاکرات کو چھوڑنے کی وضاحت کرتا ہے جس میں حماس کے بقول فریقین مغویوں کے تبادلے اور کسی معاہدے کےقریب پہنچ چکے تھے۔

 

حماس کا کہنا ہے کہ اس نے مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں لچک اور مثبت انداز اپنایا تھا اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کے لیے جامع ڈیل کے لیے راستہ کھلا رکھا تھا۔

 

حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا منصوبہ آسان نہیں ہو گا وہ جواب میں شدید مزاحمت کا سامنا کرے گا۔

 

حماس نے امریکہ کو بھی اس تمام صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ وہ اسرائیل کو فوجی اور سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے۔

 

حماس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی منصوبے کو روکیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C