24/February/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ: جبری گمشدگی کیس میں سیکریٹری دفاع طلب

👁️ 351 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد ہائیکورٹ: جبری گمشدگی کیس میں سیکریٹری دفاع طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ: جبری گمشدگی کیس میں سیکریٹری دفاع طلب

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری گمشدگی سے متعلق ایک درخواست کی سماعت میں سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا ہے اور کہا ہے کہ اگر عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو دونوں سیکریٹریز کو توہینِ عدالت میں شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔

 

یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی نے عمر عبداللہ نامی شخص کی بازیابی سے متعلق ان کی اہلیہ کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

 

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں لیکن اداروں کے متعلقہ افسران کے خلاف اب تک کی گئی کارروائی کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

 

کمرہ عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس کیانی نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ دینی ہے یا نہیں؟ انھوں نے کہا کہ فیلڈ آفیسر ملٹری انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی کا ہو سکتا ہے جو عدالت کو بریفنگ دے۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا کہ ’فیلڈ آفیسر آتے نہیں اور نہ ہی ہمیں ان کے بارے میں معلومات ہیں۔‘

 

جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا خاوند 2013 میں لاپتہ ہوا اور اب 2026 ہے۔ ایک شخص کی جبری گمشدگی کے بارے میں سمجھنا چاہ رہا ہوں۔

 

انھوں نے کہا کہ ’عدالت قانون کے مطابق چلنا چاہتی ہے اور ڈویژن بنچ نے بھی کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے۔ یہ ایک معذور شخص کے بارے میں کیس ہے اور ریاست اس کے بارے میں بتانے کو تیار نہیں۔ اگر وہ دہشت گرد ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔‘

 

جسٹس کیانی نے مزید کہا کہ حکومت اس شخص کی فیملی کو پچاس لاکھ روپے دے چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بنچ جب ٹوٹ گیا تو دوبارہ تشکیل نہیں دیا گیا۔

 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عدالت کچھ وقت دے تاکہ آئندہ سماعت پر کیس میں معاونت کی جا سکے۔

 

جسٹس کیانی نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار قابلِ احترام ہیں اور ملک کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ ہم نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ یہ شخص کسی ایجنسی کے پاس ہے۔ 

 

انھوں نے وضاحت کی کہ لاپتہ افراد کی فیملی کو دی جانے والی رقم معاوضہ نہیں بلکہ معاونت ہے، جو وزیرِ اعظم نے پانچ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد منظور کی تھی۔

 

وزارت دفاع کے نمائندے نے مزید کہا کہ جبری گمشدگی کے بارے میں ان کیمرہ بریفنگ اس مقدمے کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اس پر جسٹس کیانی نے کہا کہ عدالت کیوں نہ وزیرِ اعظم کو طلب کرے کہ انھوں نے فیلڈ آفیسرز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ ہم توقع کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم قانون پر عمل کریں گے۔

 

عدالت نے اس درخواست کی مزید سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی۔

 

محمد عبداللہ عمر انٹرنیشل اسلامی یونیورسٹی میں لا کے طالب علم تھے۔ ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں 20 جون 2015 میں اسلام آباد میں واقع ایک نجی سکول کے باہر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

 

ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق مئی 2015 میں درج ایک مقدمے کے مطابق وہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے اور ان کی دونوں ٹانگیں مفلوج ہو گئی تھیں۔

 

درخواست کے مطابق انھیں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار علی اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا تاہم انسداد دہشت گردی عدالت کی طرف سے انھیں طبی بنیادوں پر ضمانت بعد از گرفتاری مل چکی تھی۔

 

محمد عبداللہ کے والد اور درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ خالد عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مقدمات میں دیگر تمام ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیے گئے ہیں جن میں پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی کامران عادل کے دو بھائی بھی شامل ہیں۔

 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے خالد عباسی 2005 میں آرمی سے کرنل رینک کے عہدے پر پہنچنے کے بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C