20/September/2025

افغانستان: بگرام ایئر بیس پر امریکی کنٹرول قبول نہیں، طالبان حکومت کا اعلان

👁️ 463 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان: بگرام ایئر بیس پر امریکی کنٹرول قبول نہیں، طالبان حکومت کا اعلان

افغانستان: بگرام ایئر بیس پر امریکی کنٹرول قبول نہیں، طالبان حکومت کا اعلان

کابل + واشنگٹن (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) افغانستان کی عبوری حکومت نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

افغان وزارتِ خارجہ کے اہلکار ذاکر جلالی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ "تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان نے اپنی سرزمین پر کبھی بھی بیرونی افواج کو تسلیم نہیں کیا ہے۔" 

 

ان کا کہنا تھا کہ دوحہ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے دوران بھی اس نوعیت کے کسی امکان کو یکسر رد کر دیا گیا تھا۔ 

 

ذاکر جلالی نے مزید کہا کہ امریکہ اور افغانستان بغیر فوجی موجودگی کے بھی باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔ 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے دو روزہ دورے کے اختتام پر لندن میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

 

ٹرمپ کے مطابق: "یہ دنیا کے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک ہے اور اسے دوبارہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ چین کے جوہری ہتھیار بنانے کے مقام سے محض ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔" 

 

انہوں نے کہا کہ "بغیر کسی وجہ کے امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا بہت شرمناک تھا، ہم طاقتور اور عزت دار طریقے سے بھی نکل سکتے تھے۔" یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس کی اہمیت پر بات کی ہو۔ وہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر اسے امریکہ کے لیے ایک "گیم چینجر" فوجی اڈہ قرار دے چکے ہیں اور بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ “چین نے بگرام پر قبضہ کر لیا ہے۔”

 

 بگرام ایئر بیس، جو کابل کے شمال میں صوبہ پروان میں واقع ہے، کبھی امریکہ کا افغانستان میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہوا کرتا تھا۔ سنہ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران اسے خالی کر دیا گیا۔ جولائی 2025 میں برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے اس بیس کی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکی انخلا سے قبل جہاں کم از کم 35 طیارے موجود تھے، طالبان کے قبضے کے ایک سال بعد وہاں ایک بھی طیارہ نہیں رہا۔ 

 

مزید برآں، اڈے کے کئی حصے خالی اور غیر فعال دکھائی دیتے ہیں۔ افغانستان کی تاریخ بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور ان کے ناکام تجربات سے بھری پڑی ہے۔

 

انیسویں صدی میں برطانیہ تین اینگلو-افغان جنگوں میں ناکامی کے بعد افغانستان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا، 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا لیکن دس سالہ جنگ اور بھاری جانی نقصان کے بعد اسے انخلا کرنا پڑا، 2001 میں امریکہ نے نائن الیون حملوں کے بعد افغانستان میں مداخلت کی، طالبان حکومت کو ہٹا دیا لیکن دو دہائیوں پر محیط طویل جنگ کے بعد بالآخر 2021 میں افواج کو واپس بلانا پڑا۔

 

امریکہ کے بگرام بیس واپس لینے کے اعلان کو کابل میں طالبان حکومت نہ صرف اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دے رہی ہے بلکہ اسے ایک نئی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔ 

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق افغانستان کو "سلطنتوں کا قبرستان" کہا جاتا ہے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا امریکہ واقعی اس خطرناک تجربے کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کرے گا یا یہ صرف صدر ٹرمپ کا انتخابی بیانیہ ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C