04/November/2025

افغانستان سے کوئی حملہ ہوا تو جنگ بندی ختم تصور کی جائے گی، ترجمان پاکستانی فوج

👁️ 324 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان سے کوئی حملہ ہوا تو جنگ بندی ختم تصور کی جائے گی، ترجمان پاکستانی فوج

افغانستان سے کوئی حملہ ہوا تو جنگ بندی ختم تصور کی جائے گی، ترجمان پاکستانی فوج

پشاور (نمائندہ ڈیلی اردو)  پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف نے پیر کے روز پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی جانب سے پاکستان میں کسی قسم کی دراندازی یا حملہ ہوا تو جنگ بندی ختم تصور کی جائے گی اور ایسے کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

 

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف لڑتا آیا ہے اور آئندہ بھی اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “ہم حکومتِ افغانستان سے بات تو کرتے ہیں، مگر کسی شدت پسند گروہ سے مذاکرات نہیں کریں گے۔”

 

فوجی ترجمان نے بتایا کہ افغان طالبان نے قطر اور ترکی سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق ان مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یا تو اپنے ملک میں موجود شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرے یا پھر انہیں پاکستان کے حوالے کرے تاکہ انہیں قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

 

میجر جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور یہ بھی سوال اٹھایا کہ آخر کب تک افغانستان میں عبوری حکومت قائم رہے گی۔ انہوں نے افغان طالبان کے نظریات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں خواتین کو تعلیم کی اجازت نہ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔

 

ترجمان کے مطابق، پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں افغان طالبان کے 206 اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 110 جنگجو مارے گئے۔

 

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ سیاستدان باقی ہر معاملے پر سیاست کریں مگر دہشت گردی پر سیاست نہ کریں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت سرحدی علاقوں میں ڈرگ مافیا انتہائی متحرک ہے اور پوست کی کاشت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی رہنما، ڈرگ مافیا، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی سب اس مکروہ کاروبار میں شامل ہیں، اور ان کی ملی بھگت سے یہ دھندہ چل رہا ہے۔

 

فوجی ترجمان نے بتایا کہ خیبر ضلع کی تحصیل تیراہ میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ پر پوست کی کاشت ہو رہی ہے، جب کہ مقامی لوگ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق تیراہ میں ایک سال کے دوران 192 سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔

 

صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ ان کے بیانات کا اشارہ کہیں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب تو نہیں؟ اس پر میجر جنرل احمد شریف نے کوئی تردید نہیں کی، تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ وہ سہیل آفریدی کو صوبے کا وزیر اعلیٰ تسلیم کرتے ہیں۔

 

پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران ملک بھر میں 62 ہزار سے زائد خفیہ اطلاعات پر مبنی آپریشنز کیے گئے، جن کی یومیہ اوسط 208 تھی۔

 

اس عرصے میں 4 ہزار 373 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جن میں 1 ہزار 667 شدت پسند ہلاک ہوئے ان میں 128 افغان شہری شامل تھے۔

 

ان کارروائیوں کے دوران 1 ہزار 73 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 584 فوجی اہلکار، 133 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 356 عام شہری شامل ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C