افغانستان: طالبان کی عبوری حکومت کا سخت ترین سزاؤں کے نفاذ کا اعلان
👁️ 123 بار دیکھا گیا
افغانستان: طالبان کی عبوری حکومت کا سخت ترین سزاؤں کے نفاذ کا اعلان
کابل (ڈیلی اردو/اے پی) طالبان کے بانی رہنما اور امورِ جیل خانہ جات کے وزیر ملا نورالدین ترابی نے کہا ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر سزائے موت اور ہاتھ کاٹنے جیسی سخت سزاوں کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے دیگر ملکوں کو داخلی امور میں مداخلت کرنے سے باز رہنے کی وارننگ بھی دی۔
افغانستان میں طالبان کے بانیوں میں سے ایک اور اس کی سابقہ حکومت کے دوران ملک میں اسلامی قوانین کی سخت تشریح نافذ کرنے والے اہم رہنما ملّا نور الدین ترابی کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک ملک میں ایک بار پھر مجرموں کو سزائے موت اور ہاتھ کاٹنے جیسی سزاؤں کا آغاز کرے گی، تاہم اس مرتبہ یہ سزائیں شاید سر عام نہ دی جائیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ملّا ترابی نے ماضی میں طالبان کی جانب سے مجرموں کو دی جانے والی پھانسی کی سزاؤں پر بعض حلقوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو بھی مسترد کردیا۔ یہ سزائیں بعض اوقات کسی اسٹیڈیم میں ہجوم کے سامنے دی جاتی تھیں۔
“Cutting off of hands is very necessary”: One of the Taliban's most uncompromising enforcers during their rule in the 1990s says strict punishments like executions and amputations of hands will return under Afghanistan's new rulers. By @kathygannon. https://t.co/OL9cRcTOiI
— AP Middle East (@APMiddleEast) September 23, 2021
’ہمارے معاملات میں کوئی مداخلت نہ کرے‘
انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ وہ افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ ملّا ترابی نے کہا، ”اسٹیڈیم میں دی جانے والی ان سزاوں کی سب نے نکتہ چینی کی لیکن ہم نے ان کے قوانین اور ان کے یہاں دی جانے والی سزاوں کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا۔
” انہوں نے مزید کہا، ”کسی کو ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے قوانین کیسے ہونے چاہئے۔ ہم اسلام پر عمل کریں گے اور قرآن کی ہدایات کی روشنی میں اپنے قوانین ترتیب دیں گے۔“
طالبان نے 15 اگست کو جب سے کابل پر کنٹرول حاصل کر کے ملک کی حکومت سنبھالی ہے، افغان عوام اور دنیا کی نگاہیں اس بات پر ہیں کہ آیا وہ 1990 کی دہائی کے اواخر میں اپنی سخت حکمرانی کے انداز کو دوبارہ اپنائیں گے یا نہیں۔ ملاّ ترابی کے خیالات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان کے رہنما اب بھی کس طرح بنیاد پرستانہ انداز میں سوچتے ہیں، ان کا نظریہ کتنا سخت ہے باوجودیکہ وہ نئی تکنیکی تبدیلیوں مثلاً ویڈیو اور موبائل فون وغیرہ سے استفادہ کر رہے ہیں۔
ملا نوالدین ترابی، جو اب اپنی عمر کی 60 ویں بہار میں ہیں، ماضی کی طالبان حکومت میں وزیر انصاف اور وزارت برائے’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘ کے سربراہ تھے۔
اس وقت دنیا نے طالبان حکومت کی جانب سے کابل کے اسپورٹس ا سٹیڈیم یا وسیع عید گاہ مسجد کے میدان میں اکثر سینکڑوں شہریوں کی موجودگی میں دی جانے والی سزاوں کی مذمت کی تھی۔
اس وقت مجرم کو موت کی سزا پر عمل درآمد کے لیے سر میں گولی ماردی جاتی تھی۔ یہ کام بالعموم متاثرہ خاندان کا کوئی فرد انجام دیتا تھا۔ حالانکہ قتل کے بدلے میں ‘دیت‘ کی رقم قبول کرنے کی گنجائش بھی موجود تھی جس میں متاثرہ کنبہ پیسے کے بدلے میں مجرم کو معاف کرسکتا تھا۔ چوروں کو سزا دینے کے لیے عام طور پر ان کا ایک ہاتھ یا ایک پاوں کاٹ دیا جا تا تھا۔
مقدمات عوامی طور پر شاذ ونادر ہی چلائے جاتے تھے اورعدالت عام طور پر علماء کے دیے گئے دلائل کی بنیاد پر فیصلے سناتی تھی، جن کا علم بڑی حد تک مذہبی ہدایات تک محدود تھا۔
سزائیں وہی لیکن طریقہ کار مختلف ہوگا
ملاّ نورالدین ترابی نے کہا کہ اس بار علما کی بجائے ججز، جن میں خواتین بھی شامل ہوں گی، مقدمات کا فیصلہ کریں گے لیکن افغانستان کے قوانین کی بنیاد قرآن ہی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پرانی سزائیں بحال کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہاتھ کاٹنا سکیورٹی کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس کا ایک مختلف ہی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ سرعام سزائیں دی جائیں یا نہیں اور اس حوالے سے پالیسی تیار کی جائے گی۔
بکھری ہوئی داڑھی اورسفید عمامہ پہننے والے ملاّ ترابی کا ایک پاوں مصنوعی ہے۔ سن اسّی کی دہائی کے دوران سوویت فوجیوں کے خلاف جنگ میں وہ اپنے ایک پاوں اور ایک آنکھ سے محروم ہوگئے تھے۔
طالبان کی نئی حکومت کے دوران انہیں جیل خانہ جات کا انچارج بنایا گیا ہے۔ وہ کابینہ میں شامل کیے جانے والے طالبان کے ان چند رہنماوں میں سے ایک ہیں جو اقوام متحدہ کی طرف سے عائد پابندی کی فہرست میں شامل ہیں۔
’ہم ماضی سے مختلف ہیں‘
سابقہ طالبان حکومت کے دوران وہ قانون کو سختی سے نافذ کرنے کی وکالت اور اس پر عمل درآمد کرنے والے رہنماوں میں سے ایک تھے۔ ان کے اہلکار کاروں میں لگے میوزک سسٹم کو نکال کر تباہ کردیا کرتے تھے۔ تمام مردوں کو داڑھی رکھنے اور مسلم مردوں کو پانچ وقت نماز کے لیے مسجد جانے کے لیے مجبور کرتے تھے۔
اس ہفتے انہوں نے تاہم اے پی کی ایک خاتون صحافی کو انٹرویو دیا۔ انہوں نے کہا”ہم ماضی سے بہت کچھ بدل چکے ہیں۔”
ملّا ترابی نے کہا کہ طالبان نے اب ٹیلی ویزن، موبائل فون، تصاویر اور ویڈیو کی اجازت دے دی ہے ”کیونکہ یہ عوام کی ضرورت ہے اور ہم اس حوالے سے سنجیدہ ہیں۔” انہوں نے کہا کہ طالبان میڈیا کو اپنے پیغام کی ترسیل کے لیے اہم ذریعہ سمجھتے ہیں ”اب ہمیں معلوم ہے کہ محض سینکڑوں لوگوں تک پہنچنے کے بجائے لاکھوں لوگوں تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اب سزائے سرعام دی جائیں گی تو لوگ اس کی ویڈیو بناسکتے ہیں اور تصویریں لے سکتے ہیں اور اسے شائع کرسکتے ہیں جس کا ایک مختلف اثر پڑسکتا ہے۔
ملّا ترابی نے سابقہ طالبان حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا اس کی وجہ سے استحکام پیدا ہوا تھا۔”ہم ملک کے ہر حصے میں مکمل تحفظ قائم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔”
یاد رہے کہ 15 اگست کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد خوف کا شکار سیکڑوں افغان باشندے ملک چھوڑ چکے ہیں جنہیں خدشہ ہے کہ طالبان ملک میں سخت قوانین نافذ کریں گے اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔
طالبان کی حکومت سے دارالحکومت کابل میں بعض افراد خوف زدہ ہیں جب کہ کچھ کا خیال ہے کہ دارالخلافہ گزشتہ ایک ماہ کے مقابلے میں اب محفوظ ہے۔
طالبان کی جانب سے چوری اور اس جیسے دیگر مبینہ جرائم کے مرتکب افراد کو سرِ عام بدنام کرنے کے چند واقعات پر کابل کے ایک دکاندار نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جب کہ امان نامی دکاندار کا کہنا ہے کہ اس عمل سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی کیوں کہ جب لوگ یہ دیکھیں گے تو وہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ ان کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، جوابی کارروائی پر مزید شدید حملوں کا انتباہ
01/September/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، قشم، بندر عباس اور دیگر جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات
01/September/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
شام : بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ ، 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی
01/September/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
یمن: ریاستی سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ، داعش کا ترجمان ہلاک، خودکش جیکٹ و دیگر سامان برآمد
01/September/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
غزہ : اسرائیلی کارروائی، حماس کا اہم عہدیدار گرفتار، فضائی حملوں میں متعدد افراد ہلاک
01/September/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
لکی مروت: شاہ حسن خیل میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک
01/September/2026 👁️ 120 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26264 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15509 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11791 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9090 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7377 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5057 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C