21/October/2025

افغانستان عسکریت پسندوں کو کنٹرول کرے تو سیزفائر مؤثر رہیگی، پاکستان

👁️ 352 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان عسکریت پسندوں کو کنٹرول کرے تو سیزفائر مؤثر رہیگی، پاکستان

افغانستان عسکریت پسندوں کو کنٹرول کرے تو سیزفائر مؤثر رہیگی، پاکستان

اسلام آباد (ڈیلی اردو/روئٹرز/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) پاکستان نے افغانستان کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے ہاں پاکستان اور پاکستانی مفادات پر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو کنٹرول کرے گا تو دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین جنگ بندی بھی مؤثر رہے گی۔

 

پاکستان نے افغانستان کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے ہاں پاکستان اور پاکستانی مفادات پر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو کنٹرول کرے گا تو دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین جنگ بندی بھی مؤثر رہے گی۔

 

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے آج اس خبر رساں ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ کابل اور اسلام آباد کے مابین طے پانے والے حالیہ فائر بندی معاہدے کی مستقبل میں کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ افغان طالبان اپنے ہاں ان عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے کیا اور کتنے نتیجہ خیز اقدامات کرتے ہیں، جو پاک افغان سرحد کے پار پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔

 

خواجہ آصف نے دونوں ممالک کے مابین حالیہ خونریز جھڑپوں اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد طے پانے والے فائر بندی معاہدے کی ’’نزاکت‘‘ کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سیزفائر معاہدے کے آئندہ بھی مؤثر رہنے کے لیے ناگزیر ہے کہ کابل حکومت اپنے ہاں ان عسکریت پسند عناصر پر قابو پائے، جو پاکستان میں سکیورٹی دستوں اور عام شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔

 

دوحہ میں طے پانے والا فائر بندی معاہدہ

 

اسلام آباد اور کابل کے مابین یہ فائر بندی گزشتہ ویک اینڈ پر دوحہ میں قطر کی ثالثی میں طے پائی تھی۔ لیکن اس سے قبل دونوں ممالک کے مابین ان فوجی جھڑپوں میں مجموعی طور پر درجنوں افراد مارے گئے تھے، جو 2021ء میں کابل میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے آج تک کی سب سے ہلاکت خیز جھڑپیں تھیں۔

 

دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی تھی، جبکہ افغانستان میں طالبان حکومت کی نمائندگی اس کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کی تھی۔

 

اس جنگ بندی اور معاہدے کی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے روئٹرز کو بتایا، ’’اب افغانستان سے (حملے کے طور پر) جو کچھ بھی کیا جائے گا، وہ اس سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی ہو گا۔ اب ہر چیز کا انحصار صرف اسی ایک بات پر ہو گا۔‘‘

 

سیزفائر معاہدے میں درج ’اہم  ترین‘ بات

 

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد میں قومی پارلیمان کی عمار ت میں اپنے دفتر میں روئٹرز کو یہ انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر پاکستان اور افغانستان کے علاوہ قطر اور ترکی نے بھی دستخط کیے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ آئندہ کوئی دراندازی یا مداخلت نہیں ہو گی۔ اس تناظر میں خواجہ آصف کا کہنا تھا، ’’یہ جنگ بندی معاہدہ نافذ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ معاہدہ عملاﹰ سیزفائر کا ضامن صرف اسی وقت تک ہو گا، جب تک کہ اس کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔‘‘

 

پاکستان کا الزام ہے کہ سرحد پار افغان سرزمین سے پاکستان میں یہ حملے پاکستانی طالبان کی اس ممنوعہ تنظیم کی طرف سے کرائے جاتے ہیں، جس کی قیادت نے افغانستان میں اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں اور جسے کابل میں طالبان انتظامیہ نے پناہ گاہین بھی مہیا کر رکھی ہیں۔

 

افغانستان میں طالبان انتظامیہ تاہم پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتی ہے کہ اس نے پاکستانی طالبان کی تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں یا ان کے رہنماؤں کو کوئی پناہ گاہیں مہیا کر رکھی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C