11/October/2026

افغانستان کے کنڑ میں جنگی طیاروں کی پروازیں، کابل پر نامعلوم ڈرونز کی نگرانی؛ پکتیا میں طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپیں

👁️ 94 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان کے کنڑ میں جنگی طیاروں کی پروازیں، کابل پر نامعلوم ڈرونز کی نگرانی؛ پکتیا میں طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپیں

افغانستان کے کنڑ میں جنگی طیاروں کی پروازیں، کابل پر نامعلوم ڈرونز کی نگرانی؛ پکتیا میں طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپیں

کابل(ڈیلی اردو) افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں جنگی طیاروں کی پروازوں اور دارالحکومت کابل کی فضائی حدود میں نامعلوم ڈرونز کی نقل و حرکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ صوبہ پکتیا کے سرحدی اضلاع میں طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق ان واقعات کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید نمایاں ہوگئی ہے۔

افغان خبر رساں ادارے ہشتِ صبح کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کی شام، 10 اکتوبر کو جنگی طیاروں نے صوبہ کنڑ کے بعض اضلاع کی فضائی حدود میں پروازیں کیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے طیاروں کی جانب فائرنگ بھی کی، تاہم طیاروں کی شناخت، پروازوں کے مقصد اور فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والے کسی نقصان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کابل کی فضائی حدود میں نامعلوم ڈرونز بھی پرواز کرتے دیکھے گئے، لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کا تعلق کس ملک یا ادارے سے ہے اور ان کی سرگرمیوں کا مقصد کیا تھا۔

دوسری جانب افغان ذرائع ابلاغ اطلاعات روز اور شانا کے مطابق صوبہ پکتیا کے سرحدی اضلاع دند پتان اور اریوب زازی میں طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق فریقین نے ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے، جبکہ بعض مقامی ذرائع نے اریوب زازی میں فائرنگ کے باعث شہریوں کے گھروں سے نقل مکانی کرنے کی بھی اطلاع دی۔ بعد ازاں جھڑپیں ختم ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم جانی نقصان کی مصدقہ تفصیلات دستیاب نہیں ہوئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان سرحد پار حملوں اور عسکریت پسندوں کی موجودگی کے الزامات پر کشیدگی برقرار ہے۔ ستمبر میں پاکستان نے افغانستان کے متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے تھے۔ اسلام آباد نے ان کارروائیوں کو مبینہ عسکریت پسندوں اور ڈرون حملوں سے متعلق تنصیبات کے خلاف قرار دیا، جبکہ افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کی اطلاعات دیتے ہوئے پاکستانی کارروائیوں پر اعتراض کیا تھا۔

تازہ واقعات کے حوالے سے تاحال پاکستان یا افغان طالبان حکام کی جانب سے تمام اطلاعات کی تفصیلی اور آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق وضاحت سامنے نہیں آئی۔ جنگی طیاروں اور ڈرونز کی شناخت، جھڑپوں میں ممکنہ جانی نقصان اور ان واقعات کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی صورتحال واضح نہیں ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C