06/October/2026

امریکا میں 65 سال بعد فوجی پھانسی کی راہ ہموار، ٹرمپ نے نضال حسن کی فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت کی منظوری دے دی

👁️ 93 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکا میں 65 سال بعد فوجی پھانسی کی راہ ہموار، ٹرمپ نے نضال حسن کی فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت کی منظوری دے دی

امریکا میں 65 سال بعد فوجی پھانسی کی راہ ہموار، ٹرمپ نے نضال حسن کی فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت کی منظوری دے دی

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق فوجی ماہر نفسیات نضال حسن کی سزائے موت فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دینے کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں امریکا میں چھ دہائیوں سے زائد عرصے بعد فوجی عدالت کے تحت سزائے موت پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ منظوری وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی سفارش پر دی۔ تاہم حکام نے تاحال نضال حسن کی سزا پر عملدرآمد کی حتمی تاریخ یا مقام کا اعلان نہیں کیا۔

نضال حسن کو 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں 13 افراد کے قتل اور 32 دیگر کو قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں 2013 میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

5 نومبر 2009 کو پیش آنے والے واقعے میں حسن، جو اس وقت امریکی فوج میں میجر اور ماہر نفسیات کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا، نے فوجی اڈے کے ایک مرکز میں فائرنگ کی تھی۔ حملے میں 12 فوجی اہلکاروں اور ایک شہری سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 32 افراد زخمی ہوئے تھے۔ فائرنگ کے دوران حسن خود بھی زخمی ہوا اور بعد میں گرفتار کرلیا گیا۔

فوجی عدالت نے 2013 میں اسے 13 مرتبہ دانستہ قتل اور 32 مرتبہ اقدام قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں اسے ریاست کنساس کے فورٹ لیون ورتھ میں فوجی حراستی مرکز منتقل کردیا گیا، جہاں وہ سزائے موت کے قیدیوں میں شامل ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اگر نضال حسن کی سزا پر عملدرآمد ہوتا ہے تو یہ 1961 کے بعد امریکی فوجی نظام میں پہلی سزائے موت ہوگی۔ آخری فوجی پھانسی جان بینیٹ نامی فوجی کی دی گئی تھی، جسے آسٹریا میں 11 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور اسے قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں موت کی سزا دی گئی تھی۔

امریکی فوجی ضوابط کے مطابق صدر کی منظوری کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے مخصوص مدت مقرر ہے، تاہم حسن کے معاملے میں حکام نے ابھی تک عملی کارروائی کی تاریخ ظاہر نہیں کی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج گزشتہ کئی ماہ سے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے قیدیوں کے ممکنہ طور پر دوبارہ عملدرآمد کے لیے انتظامات پر غور کررہی تھی۔ اس سلسلے میں فورٹ لیون ورتھ سے سزائے موت کے قیدیوں کو انڈیانا کے وفاقی ایگزیکوشن مرکز منتقل کرنے کے منصوبے کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں۔

ٹرمپ کی منظوری کے باوجود یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نضال حسن کو سزائے موت کہاں دی جائے گی۔ حکام کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی ہے، تاہم حتمی انتظامات اور تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے۔

نضال حسن کی سزا پر عملدرآمد کی صورت میں یہ امریکی فوجی عدالتی نظام میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی، کیونکہ 1961 کے بعد سے کسی فوجی مجرم کو سزائے موت نہیں دی گئی۔ موجودہ فیصلہ امریکی فوجی عدالتوں میں سزائے موت کے طریقہ کار اور اس کے دوبارہ استعمال کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C