امریکی جرنیلوں کا طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر تشویش کا اظہار
👁️ 55 بار دیکھا گیا
امریکی جرنیلوں کا طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر تشویش کا اظہار
واشنگٹن (ویب ڈیسک) اعلیٰ امریکی جرنیلوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کو خبردار کیا تھا کہ افغانستان سے فوری انخلا پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں اور ملکی سلامتی کے لیے خطرات بڑھا سکتا ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیف جنرل مارک ملی نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ ‘ہم نے اندازہ لگایا کہ تیزی سے انخلا علاقائی عدم استحکام، پاکستان کی سلامتی اور اس کے جوہری ہتھیاروں کے لیے خطرات میں اضافہ کرے گا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں پاکستان کے کردار کو پوری طرح جانچنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ طالبان امریکی فوج کے دباؤ کے سامنے 20 سال تک کیسے کھڑے رہے’۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مارک ملی اور جنرل فرینک میک کینزی نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اب جس طالبان سے نمٹنا پڑے گا وہ پہلے سے مختلف ہیں اور اس سے ان کے تعلقات پیچیدہ ہو جائیں گے۔
جنرل میک کینزی نے قانون سازوں کو بتایا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے نتیجے میں طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نمایاں طور پر زیادہ پیچیدہ ہونے جا رہے ہیں’۔
اہم ایئر کوریڈور
سینٹ کام کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور پاکستان، افغانستان تک رسائی کے لیے اہم فضائی راہداری کے استعمال پر جاری مذاکرات میں شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ ‘گزشتہ 20 سالوں کے دوران ہم پاکستان کے مغربی حصے میں جانے کے لیے، جسے ہم ایئر بلیوارڈ کہتے ہیں، استعمال کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور یہ ایک ایسی چیز بن گئی ہے جو ہمارے لیے ضروری ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اور ہم آنے والے دنوں اور ہفتوں میں پاکستانیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے کہ مستقبل میں یہ تعلقات کیسے رہیں گے’۔
تاہم دونوں جرنیلوں نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں اور ان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں میں آنے کے امکانات کے بارے میں اپنے خدشات پر مزید بات کرنے سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ سینیٹرز کے ساتھ ان کیمرا اجلاس میں اس کے بارے میں اور دیگر حساس معاملات پر بات کریں گے۔
‘ریاست بنائیں، قوم نہیں’
اس سے قبل سماعت میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے سینیٹرز کو بتایا کہ اگرچہ امریکا نے ایک ریاست بنانے میں مدد کی، وہ افغان قوم کی تعمیر میں ناکام رہے اور اسی وجہ سے انہیں اگست کے وسط میں ہونے والی تباہی دکھائی نہیں دی۔
افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد امریکی جرنیلوں کی کانگریس کے سامنے یہ پہلا بیان تھا جس سے امریکا کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہوا۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جیک ریڈ کے ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری لائیڈ آسٹن نے کہا کہ ‘ہم نے ایک ریاست بنانے میں مدد کی تاہم ہم ایک قوم نہیں بنا سکے’۔
جنرل مارک ملی نے کہا کہ ‘ہم نے افغان فوج کے 11 روز میں تیزی سے خاتمے اور ان کی حکومت کے خاتمے کو بالکل نہیں دیکھا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘(ہماری) ذہانت کے زیادہ تر جائزوں سے ظاہر ہوا تھا کہ موسم خزاں کے آخر یا شاید سردیوں کے اوائل تک ایسا ہوگا اور کابل اگلے موسم بہار تک ٹھہر سکتا ہے’۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ فوجی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کا ‘ممکنہ نتیجہ’، فوج کا خاتمہ، حکومت کا خاتمہ ہوگا۔
‘تلخ حقائق’
سیکریٹری لائیڈ آسٹن نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ سقوطِ کابل کے لیے کسی پر الزام لگانے سے پہلے ‘چند تلخ حقائق پر غور کریں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے ان کے سینئر عہدوں میں بدعنوانی اور ناقص قیادت کی گہرائی کو مکمل طور پر نہیں سمجھا، ہم نے صدر اشرف غنی کی طرف سے ان کے کمانڈروں کی بار بار اور غیر واضح تبدیلیوں کے نقصان دہ اثرات کو نہیں سمجھا’۔
امریکا کے سیکریٹری دفاع نے کہا کہ ‘دوحہ معاہدے کے تناظر میں طالبان کمانڈروں کے مقامی رہنماؤں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے اثرات کا ہمیں اندازہ نہیں ہوسکا اور دوحہ معاہدے کے افغان افواج پر مایوس کن اثرات مرتب بھی ہوئے’۔
انہوں نے کہا کہ امریکی یہ سمجھنے میں بھی ناکام رہے کہ افغان فوجیوں میں کرپٹ حکومت کے لیے لڑنے کا جذبہ نہیں ہے۔
جنرل مارک میلی نے نوٹ کیا کہ افغان فوجیوں کی اکثریت نے ‘بہت کم وقت میں اپنے ہتھیار نیچے رکھ دیے’۔
انہوں نے سابقہ افغان حکومت پر الزام لگایا کہ وہ فوجیوں کو متاثر کرنے میں ناکام رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ اس کا تعلق قیادت سے ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ابھی بھی یہ جاننے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہوا، ہم نے واضح طور پر یہ سمجھ نہیں سکے’۔
اعلیٰ امریکی جنرل نے القاعدہ یا داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کو ‘غیر انتظام شدہ علاقوں’ میں دوبارہ تشکیل پانے اور امریکا پر حملے کی کوشش کرنے کے لیے 12 سے 36 ماہ کی ٹائم لائن فراہم کی۔
جنرل مارک ملی نے تسلیم کیا کہ افغانستان کی جنگ اس طرح ختم نہیں ہوئی جس طرح امریکا چاہتا تھا۔
انہوں نے سینیٹرز سے کہا کہ ‘یہ واضح ہے کہ افغانستان میں جنگ ان شرائط پر ختم نہیں ہوئی تھی جو ہم طالبان کے ساتھ چاہتے تھے جو کابل میں برسر اقتدار ہیں’۔
یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ طالبان ایک دہشت گرد تنظیم تھی اور ہے اعلیٰ امریکی جنرل نے کہا کہ ‘یہ دیکھنا ہوگا کہ طالبان اپنی طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں اور کہیں ملک مزید خانہ جنگی کی طرف تو نہیں بڑھ جائے گا’۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
اپر اورکزئی میں دو شدت پسند گروپوں میں جھڑپ، لشکر اسلام کے 4 ارکان ہلاک
17/September/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان کا اقوام متحدہ میں سخت مؤقف، 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی ہلاک
17/September/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک، 2 زخمی
17/September/2026 👁️ 177 بار دیکھا گیا
یمن میں 2022 کی جنگ بندی کے بعد شدید ترین کشیدگی، الجوف میں جھڑپیں اور حوثی پیش قدمی
17/September/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
طائف میں حوثی ڈرون کے ملبے سے یمنی شہری ہلاک، پاکستانی سمیت دو افراد زخمی
17/September/2026 👁️ 206 بار دیکھا گیا
شمالی کوریا کی جوہری حیثیت ناقابل واپسی ہے، کم یو جونگ
17/September/2026 👁️ 239 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26310 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15554 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11841 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9149 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7432 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5199 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C