17/September/2026

شمالی کوریا کی جوہری حیثیت ناقابل واپسی ہے، کم یو جونگ

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شمالی کوریا کی جوہری حیثیت ناقابل واپسی ہے، کم یو جونگ

شمالی کوریا کی جوہری حیثیت ناقابل واپسی ہے، کم یو جونگ

پیانگ یانگ(ڈیلی اردو) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا مطالبہ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پیانگ یانگ اپنی جوہری صلاحیت سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے بقول شمالی کوریا کا جوہری طاقت کی حیثیت اختیار کرنا اب ایک حتمی اور ناقابل واپسی فیصلہ ہے۔

کم یو جونگ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا سالانہ اجلاس جاری ہے، جہاں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ اجلاس کے دوران شمالی کوریا سے جوہری پروگرام ترک کرنے کے مطالبات سامنے آئیں گے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم یو جونگ نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پیانگ یانگ کو اپنی جوہری صلاحیت ترک کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے، وہ عالمی حالات کی حقیقتوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی جوہری طاقت کی حیثیت مستقل ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق ملک کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام بیرونی خطرات کے خلاف دفاعی صلاحیت اور ملکی سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کم یو جونگ نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کی جوہری طاقت کی حیثیت کو 2023ء میں آئین کا حصہ بنایا گیا تھا اور اسے معمولی حد تک بھی تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے جوہری ذخیرے کے حجم کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں شمالی کوریا کے پاس 57 جوہری ہتھیار ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ جنوبی کوریا کے اندازوں کے مطابق پیانگ یانگ کے پاس جوہری ہتھیاروں کی تعداد 80 سے 120 کے درمیان ہو سکتی ہے۔

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں 2019ء کے بعد مزید پیش رفت ہوئی، جب کم جونگ اُن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوسری سربراہی ملاقات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام میں کمی کے بدلے شمالی کوریا کو ملنے والی مراعات کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے تھے۔

کم یو جونگ کے حالیہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کی قیادت فی الحال اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے مطالبات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اسے ملکی دفاعی پالیسی کا مستقل حصہ قرار دے رہی ہے۔


 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C