06/August/2025

امریکی دباؤ: لبنان کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ

👁️ 340 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی دباؤ: لبنان کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ

امریکی دباؤ: لبنان کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ

واشنگٹن + بیروت (ڈیلی اردو/ایجنسیاں) لبنان کی حکومت نے منگل کے روز ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے فوج کو یہ ٹاسک سونپا ہے کہ وہ رواں برس کے اختتام تک ایسا عملی منصوبہ تیار کرے جس کے تحت صرف ریاستی ادارے ہی اسلحہ رکھ سکیں گے، جبکہ تمام غیر ریاستی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا۔

 

یہ اقدام ایران کی حمایت یافتہ شیعہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کو مؤثر طریقے سے غیر مسلح کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس فیصلے کا پس منظر نومبر 2024 میں طے پانے والی جنگ بندی ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے سے جاری کشیدگی کا خاتمہ تھا۔

 

وزیر اعظم نواف سلام نے کابینہ کے تقریباً چھ گھنٹے طویل اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اگست کے اواخر تک ایسا منصوبہ کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرے، جس کے ذریعے صرف فوج اور داخلی سلامتی کے اداروں کو اسلحے تک رسائی حاصل ہو۔

 

امریکی دباؤ اور عالمی حمایت

 

یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں واشنگٹن نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے۔ مغربی ممالک، جن میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں، حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

 

حزب اللہ کے ہتھیار اور اثر و رسوخ

 

حزب اللہ لبنان کی ایک بااثر سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منظم عسکریت پسند گروپ بھی ہے، جس نے 1975 سے 1990 تک جاری خانہ جنگی کے بعد بھی اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے۔ ایران کی مالی، عسکری اور تربیتی مدد سے یہ گروپ طویل عرصے تک ملکی فوج سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جاتا رہا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور 2024 کی جنگ نے حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ متعدد کمانڈروں کی ہلاکت اور اسلحہ ڈپوؤں کی تباہی کے بعد گروپ دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔

 

کیا حزب اللہ غیر مسلح ہو گی؟

 

منگل کو کابینہ اجلاس کے دوران حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیل کی طرف سے جارحیت جاری ہے، گروپ ہتھیار نہیں ڈالے گا۔

 

انہوں نے کہا: “ہمیں ہتھیار چھوڑنے کا کہا جا رہا ہے، لیکن قومی سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا رہی۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم اسے قبول نہیں کرتے کیونکہ ہم خود کو لبنان کا بنیادی جزو سمجھتے ہیں۔”

 

لبنانی عوام کی رائے میں تبدیلی

 

اگرچہ حزب اللہ کو اب بھی لبنان کی شیعہ برادری میں خاصی حمایت حاصل ہے، لیکن حالیہ عوامی سروے، جیسے کہ عرب بیرومیٹر کی رپورٹ، ظاہر کرتے ہیں کہ لبنانی عوام میں حزب اللہ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

 

اسرائیلی حملے کیوں جاری ہیں؟

 

نومبر 2024 کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو اور جنگجوؤں پر مرکوز ہیں، جنہیں وہ اپنی فوجی قوت دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیتا ہے۔

 

اسرائیلی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اس کے حملے جاری رہیں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C