24/September/2025

امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں ایران کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا

👁️ 298 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں ایران کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا

امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں ایران کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا

نیویارک (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں)  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مدت کے لیے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں اس عالمی ادارے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے اور مغربی ممالک پر ’’مہاجرت کے ذریعے حملہ‘‘ کروا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی تشویش کو ’’دنیا کی سب سے بڑی جعل سازی‘‘ قرار دیا۔

 

ٹرمپ نے کہا،’’اقوام متحدہ کا مقصد ہی کیا ہے؟ یہ صرف سخت جملوں والے خط لکھتے ہیں، لیکن کھوکھلے الفاظ جنگیں ختم نہیں کرتے۔‘‘ انہوں نے یہاں تک شکایت کی کہ ادارے نے انہیں ’’خراب ایسکلیٹر اور خراب ٹیلی پرامپٹر‘‘ دیا۔

 

انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے امریکی اتحادیوں پر شدید تنقید کی اور اسے حماس کے ’’خون ریز مظالم کا انعام‘‘ قرار دیا، ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد ہی امن ممکن ہے۔

 

یورپی اتحادیوں، چین اور بھارت پر روس سے تیل خریدنے پر برسنے کے باوجود ٹرمپ نے ماسکو پر نسبتاً نرم لہجہ اپنایا اور صرف یہ کہا کہ امریکہ روس پر ’’مزید پابندیاں‘‘ لگا سکتا ہے۔

 

ان کا سب سے سخت مؤقف مہاجرت پر تھا، جہاں انہوں نے کہا، ’’کھلی سرحدوں کا ناکام تجربہ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ آپ کے ممالک تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے لندن کے مسلمان میئر صادق خان پر بھی تنقیدکی۔

 

ٹرمپ اس اجلاس کے حاشیے پر یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور ارجنٹائن کے صدر خاویئر میلی جیسے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ہے۔

 

امریکی رہاست نیویارک میں جاری اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بھرپور تقریر میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت تنقید کی، فلسطین میں جنگ بندی کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور دنیا بھر کے مختلف تنازعات کے حل کو اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیا۔

 

ایران پر سخت کلمات اور حملے کا انکشاف

 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ تباہ کن ہتھیار ہیں اور ایران جیسے ممالک کو ان ہتھیاروں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے ایران کو "دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست" قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ رواں برس کے آغاز میں امریکی فضائیہ نے ایران کی ایک اہم جوہری تنصیب پر بمباری کی تھی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا: “ہم نے وہ کام کیا جو لوگ گزشتہ 22 سال سے کرنے کی بات کر رہے تھے۔”

 

فلسطین میں جنگ بندی کی کوششیں

 

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والی کوششوں کا حصہ رہے ہیں تاکہ فریقین مذاکرات کے ذریعے اس ہدف کو حاصل کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ کئی بڑے ممالک نے حالیہ دنوں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، لیکن حماس کے اقدامات کو "انعام" دینے کے بجائے سب کو یرغمالیوں کی فوری رہائی پر متحد ہونا چاہیے۔

 

عالمی تنازعات کے حل کا دعویٰ

 

امریکی صدر نے ایک بار پھر اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ اپنے دوسرے دورِ صدارت میں وہ سات بڑے عالمی تنازعات کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان تنازعات میں کمبوڈیا و تھائی لینڈ، کوسوو و سربیا، پاکستان و بھارت، اسرائیل و ایران، مصر و ایتھوپیا، آرمینیا و آذربائیجان اور جمہوریہ کانگو و روانڈا کے درمیان جھڑپیں شامل تھیں۔ ٹرمپ نے کہا: “کوئی اور امریکی صدر اس کے قریب قریب بھی کچھ نہ کر سکا جو ہم نے کیا ہے۔”

 

محمود عباس کا ویڈیو خطاب

 

فلسطینی صدر محمود عباس کو ویزا نہ ملنے پر انھوں نے ویڈیو خطاب کے ذریعے اجلاس سے خطاب کیا۔ عباس نے مستقل جنگ بندی، اقوامِ متحدہ کے تحت انسانی امداد کی فراہمی اور تین ماہ کے اندر عبوری آئین کی تیاری کا مطالبہ کیا تاکہ اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

انھوں نے اعلان کیا کہ آئندہ انتخابات بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں ہوں گے اور کہا کہ “غزہ پر حکومت کرنے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔”

عباس نے 149 ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے تسلیم کیے جانے پر شکریہ ادا کیا اور دیگر ممالک سے بھی ایسا کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا مؤقف

 

انتونیو گوتریس نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کا قیام "حق ہے، انعام نہیں"۔ انھوں نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے اور یہ کہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کا کوئی جواز نہیں۔ گوتریس نے خبردار کیا: “ہمیں دو ریاستی حل کے لیے کوشش کرنی چاہیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”

 

سعودی عرب کا موقف

 

سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اپنے رہنما محمد بن سلمان کی نمائندگی کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C