22/September/2025

امریکی صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس واپس لینے کا دوبارہ مطالبہ کر دیا

👁️ 332 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس واپس لینے کا دوبارہ مطالبہ کر دیا

امریکی صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس واپس لینے کا دوبارہ مطالبہ کر دیا

کابل +  واشنگٹن (ڈیلی اردو/نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر افغانستان کے بگرام ایئر بیس کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان نے یہ فوجی اڈہ واپس نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

 

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا:  “اگر افغانستان نے بگرام ایئر بیس کو اسے تعمیر کرنے والوں یعنی امریکہ کو واپس نہیں کیا تو برا ہو گا!!!”

 

دو روز قبل لندن میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “ہم اپنا فوجی اڈہ واپس چاہتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اس جگہ سے محض ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔”

 

طالبان کا ردعمل

 

صدر ٹرمپ کے تازہ مطالبے پر افغان طالبان نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کا حق نہیں رکھتا اور اسے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔

 

طالبان نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا: “امارت اسلامیہ افغانستان باہمی اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تمام ریاستوں کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتی ہے، تاہم افغانستان کی آزادی اور علاقائی سالمیت کسی صورت متاثر نہیں ہو سکتی۔”

 

بیان میں مزید کہا گیا: “دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال یا دھمکی نہیں دے گا، اس لیے امریکہ کو اپنے وعدوں پر قائم رہنا چاہیے۔”

 

بگرام ایئر بیس کی اہمیت

 

تقریباً دو دہائیوں تک بگرام ایئر بیس القاعدہ اور طالبان کے خلاف امریکی اور اتحادی افواج کی کارروائیوں کا مرکز رہا۔ 77 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے اس اڈے میں ایک وقت میں 10 ہزار سے زائد فوجی قیام کر سکتے ہیں۔

 

گزشتہ بیس سال میں تین امریکی صدور جارج ڈبلیو بش، براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ اس اڈے کا دورہ کر چکے ہیں۔ موجودہ صدر جو بائیڈن بھی 2011 میں، جب وہ نائب صدر تھے، بگرام پہنچے تھے۔

 

تاریخی پس منظر

 

بگرام اڈہ اصل میں سوویت یونین نے 1950 کی دہائی میں صوبہ پروان میں قائم کیا تھا۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران یہ سب سے اہم فوجی اڈہ تصور کیا جاتا تھا۔

 

امریکی افواج کے 2021 میں انخلا کے بعد یہ اڈہ طالبان کے قبضے میں آ گیا، اور اب صدر ٹرمپ ایک مرتبہ پھر اس پر امریکی کنٹرول بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے طالبان نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C