03/October/2025

امریکی صدر ٹرمپ کی حماس کو آخری وارننگ:’اتوار تک منصوبہ قبول کریں ورنہ’قیامت برپا ہوگی‘

👁️ 258 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی صدر ٹرمپ کی حماس کو آخری وارننگ:’اتوار تک منصوبہ قبول کریں ورنہ’قیامت برپا ہوگی‘

امریکی صدر ٹرمپ کی حماس کو آخری وارننگ:’اتوار تک منصوبہ قبول کریں ورنہ’قیامت برپا ہوگی‘

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک سخت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو اتوار کی شام تک امریکی امن منصوبے کو قبول کر لینا چاہیے، ورنہ اسے “ایسی قیامت” کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے دیکھی نہ گئی ہو۔ صدر نے کہا کہ امریکی وقت کے مطابق اتوار کی شام تک اس منصوبے پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ 

 

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ترمپ نے کہا ہے کہ حماس اتوار تک غزہ سے متعلق امریکی امن منصوبہ تسلیم کر لے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیت فارم ’تروتھ سوشل‘ پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی وقت کے مطابق اتوار کی شام تک اس منصوبے پر اتفاق ہو جانا چاہیے۔

 

اس منصوبے کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے لیے حماس کو 72 گھنتوں کے اندر 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہو گا جبکہ اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

 

عرب ممالک اور ترک ثالث حماس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس منصوبے پر مثبت ردعمل دے۔ تاہم حماس کے ایک سینئر اہلکار نے عندیہ دیا ہے حماس اس منصوبے کو مسترد کر سکتا ہے۔

 

صدر ٹرمپ کا اپنی پوست میں کہنا تھا کہ ’اگر امن تک پہنچنے کے اس معاہدے پر اتفاق نہ ہوا تو ایسی قیامت برپا ہو گی جسے پہلے کسی نے نہیں دیکھا ہو گا۔ کسی بھی طریقے سے مشرق وسطیٰ میں ہر حال میں امن قائم ہونا ہے۔ ‘

 

اطلاعات کے مطابق ثالثوں نے غزہ میں حماس کے ملتری ونگ کے سربراہ سے رابطہ کیا ہے جو اس مجوزہ امن منصوبے سے متفق نہیں ہیں۔

 

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قطر میں حماس کی سیاسی قیادت میں سے کچھ اس منصوبے کو کچھ ردوبدل کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس حوالے سے اُن کا اثر و رسوخ محدود ہے کیونکہ غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا کنٹرول اُن کے پاس نہیں ہے۔

 

ادھر غزہ پٹی سے جمعہ تین اکتوبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں غزہ پٹی سے متعلق جو نیا امن منصوبہ پیش کیا تھا، اس کے تفصیلی جائزے کے لیے حماس کو ابھی مزید وقت درکار ہے۔

 

اس عہدیدار نے کہا، ’’ٹرمپ کے نئے منصوبے سے متعلق حماس کی مشاورت جاری ہے، اور غزہ پٹی کے تنازعے کے ثالثوں کو اطلاع کر دی گئی ہے کہ تاحال جاری مشاورت کی تکمیل کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔‘‘

 

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں اس امن منصوبے کو قبول کرنے کے لیے حماس کو ’’تین چار دن‘‘ کی مہلت دی تھی، تاکہ اس پر عمل کرتے ہوئے غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین اس خونریز جنگ کو ختم کیا جا سکے، جس کے سات اکتوبر کو ٹھیک دو سال پورے ہو جائیں گے۔

اس امن منصوبے میں غزہ پٹی میں ایسی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد  کے آغاز کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر اندر تمام اسرائیلی یرغمالی رہا کیے جانا چاہییں۔

 

اس کے علاوہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس، جس کے اسرائیل میں سات اکتوبر 2023ء کے دہشت گردانہ حملے اور اس کے فوری بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ غزہ کی جنگ شروع ہوئی تھی، کو خود کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔ مزید یہ کہ اسرائیل بھی غزہ پٹی سے اپنے فوجی دستے بتدریج واپس بلا لے گا۔

 

اس امن منصوبے کا عرب دنیا، پاکستان سمیت زیادہ تر مسلم ممالک اور یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برادری نے خیر مقدم کیا ہے۔

 

تاہم اس بارے میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن محمد نزال نے آج جمعے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’اس منصوبے میں ایسے نکات بھی شامل ہیں، جن پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ہم اس حوالے سے جلد ہی اپنے موقف کا اعلان کر دیں گے۔‘‘ ’کچھ بھی باقی نہیں رہا، ہم ختم ہو گئے ہیں‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C