07/October/2026

اٹلی میں دہشتگردی کے شبے میں 21 سالہ طالب علم گرفتار، اسلحہ اور بم بنانے کے مواد کی برآمدگی

👁️ 92 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اٹلی میں دہشتگردی کے شبے میں 21 سالہ طالب علم گرفتار، اسلحہ اور بم بنانے کے مواد کی برآمدگی

اٹلی میں دہشتگردی کے شبے میں 21 سالہ طالب علم گرفتار، اسلحہ اور بم بنانے کے مواد کی برآمدگی

روم (ڈیلی ارو) اٹلی کے شہر سالیرنو کے علاقے کاوا دے تِرّینی میں پولیس نے دہشتگردی سے متعلق جرائم کے شبے میں 21 سالہ یونیورسٹی طالب علم کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے بم بنانے سے متعلق ہدایات، شدت پسندانہ مواد، دو تبدیل شدہ پستول، چاقو، ایک بڑا چاقو اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔

اطالوی پولیس کے مطابق کارروائی سالیرنو کی انسداد دہشتگردی پولیس اور مرکزی محکمہ انسداد دہشتگردی نے خفیہ ادارے کی جانب سے ملنے والی معلومات کے بعد کی۔ تفتیش میں مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ نوجوان انٹرنیٹ پر فوجی تربیت، ہتھیاروں، دھماکا خیز مواد کی تیاری اور داعش سے منسوب اشاعتوں سے متعلق مواد تلاش کر رہا تھا، جبکہ حکام کے مطابق اس نے پرتشدد کارروائی کرنے کے ارادوں کا بھی اظہار کیا تھا۔

تلاشی کے دوران الیکٹرانک آلات سے دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات کی تیاری سے متعلق ہدایات اور انتہاپسندانہ نظریات سے وابستہ مواد ملا۔ پولیس نے دو چاقو، تقریباً 50 سینٹی میٹر لمبا ایک بڑا چاقو، دو پستول اور 107 خالی کارتوس بھی قبضے میں لیے۔ پولیس کے مطابق دونوں پستول بظاہر خالی فائرنگ کے لیے بنے تھے لیکن ان میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

اطالوی مقامی میڈیا کے مطابق گرفتار نوجوان نے عدالت میں اپنے دفاع میں دعویٰ کیا کہ وہ صرف دوستوں میں خود کو دہشتگرد گروہ سے وابستہ ظاہر کرکے اپنی اہمیت بڑھانا چاہتا تھا اور کسی حملے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ تاہم تفتیشی جج نے ابتدائی مرحلے میں اس وضاحت کو قابلِ اعتماد قرار نہیں دیا اور گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے اسے جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

اہم بات یہ ہے کہ اطالوی پولیس کے سرکاری بیان میں گرفتار شخص کو اطالوی شہری اور یونیورسٹی طالب علم قرار دیا گیا ہے۔ دستیاب اطالوی سرکاری و معتبر مقامی رپورٹس میں اسے افغان نژاد، داعش خراسان کا رکن یا افغانستان سے بھارت کے راستے اٹلی پہنچنے والا شخص قرار نہیں دیا گیا۔ اس لیے اس کے مبینہ افغانستان، بھارت اور یورپ کے سفری راستے سے متعلق دعوے کی فی الحال آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

اطالوی حکام کے مطابق گرفتار شخص کے خلاف کارروائی ابھی عدالتی عمل کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور حتمی طور پر جرم ثابت ہونے تک اسے بے گناہ تصور کیے جانے کا قانونی اصول برقرار ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C