30/January/2026

ایران: اصفہان کے جوہری مرکز پر سیٹلائٹ تصاویر میں نئی سرگرمیوں کا انکشاف

👁️ 285 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران: اصفہان کے جوہری مرکز پر سیٹلائٹ تصاویر میں نئی سرگرمیوں کا انکشاف

ایران: اصفہان کے جوہری مرکز پر سیٹلائٹ تصاویر میں نئی سرگرمیوں کا انکشاف

واشنگٹن (ش ح ط)اصفہان میں واقع ایران کے جوہری مرکز کی آج لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں سرنگوں کے داخلی راستوں پر نئی تعمیراتی اور حفاظتی سرگرمیاں سامنے آئی ہیں۔ 

 

دستیاب معلومات کے مطابق ایران نے سرنگ کے درمیانی داخلی راستے کو دوبارہ مٹی سے بند کر دیا ہے جبکہ جنوبی داخلی راستے پر مزید تازہ مٹی ڈالی جا رہی ہے۔

 

تصاویر میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شمالی داخلی راستہ، جسے جون 2025 کے حملے کے بعد ازسرِنو مضبوط کیا گیا تھا، تاحال کھلا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کے اطراف میں گاڑیوں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ درمیانی اور شمالی داخلی راستوں کی جانب جانے والی سڑک پر مٹی سے بھرے ڈمپ ٹرکوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات ممکنہ طور پر آئندہ فوجی حملوں سے بچاؤ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ماضی میں بھی ایران نے اسی نوعیت کے اقدامات اس وقت کیے تھے جب خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔

 

ادھر، اصفہان کے اسی مقام پر ایک تباہ شدہ زمینی عمارت کے قریب بھی حالیہ تعمیراتی سرگرمی نوٹ کی گئی ہے۔ اگرچہ اس بارے میں باضابطہ تصدیق موجود نہیں، تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عمارت سینٹری فیوج کی تیاری سے منسلک ہو سکتی تھی۔

 

ماہرین کے مطابق اگر یہ سرگرمیاں واقعی سینٹری فیوج تیاری سے جڑی ہوئی ہیں تو اصفہان کے پہاڑی کمپلیکس اور نطنز کے پائلٹ فیول انرشمنٹ پلانٹ میں جاری سرگرمیوں کے ساتھ مل کر یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی سے متعلق تنصیبات کے تحفظ اور بحالی کو ترجیح دی ہے۔

 

تاہم حکام کی جانب سے کسی باضابطہ وضاحت کی عدم موجودگی کے باعث یہ سرگرمیاں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق تشویش ناک سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔

 

پس منظر

 

سنہ 2006 میں ایران نے اصفہان نیوکلیئر ریسرچ سینٹر میں یورینیم پروسیسنگ کی سہولت پر کام کا آغاز کیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد ییلو کیک کو تین بنیادی شکلوں میں تبدیل کرنا تھا، جن میں یورینیم ہیکسافلوورائیڈ گیس شامل ہے جو نطنز اور فردو میں یورینیم افزودگی کے عمل میں استعمال ہوتی ہے، یورینیم آکسائیڈ جو جوہری ری ایکٹرز کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اور یورینیم دھاتیں جو بعض ایندھن عناصر کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C